PHARMACEUTICAL REVIEW

ISSN 2220-5187; We distribute and report the potential information of biological or life sciences – medicine, dentistry, pharmacy, nursing, veterinary, food, livestock, agriculture and public health. We publish the most current news, innovations, interviews and events (conferences, exhibitions, workshops, seminars). The professional bodies, business entrepreneurs, academic institutions and research organizations may contact us to market their events and business. We will help you to promote and advertise your products and services.

جعلی ادویات کتنی حقیقت، کتنا فسانہ – ابو عبداللہ

Leave a comment

 

پنجاب حکومت کی جعلی ادویات کے خلاف حالیہ قانونی و اشتہاری مہم اور دوا سازوں اور دوا فروشوں کی ہڑتال و احتجاج کے واقعات کی میڈیا میں خبروں سے عوام کے ذہنوں میں یہ تاثر قائم ہوتا ہے کہ ادویات کی مارکیٹ میں ناقص اور جعلی ادویات کی بھرمار ہے، اور حکومت نے پہلی مرتبہ اس کی روک تھام کے لیے سنجیدہ اقدامات اٹھائے ہیں، جبکہ جعلی ادویات تیار کرنے اور بیچنے والا مافیا اپنے بچاؤ کے لیے سڑکوں پر آ گیا ہے اور ہڑتالوں کے ذریعے حکومت کو بلیک میل کر رہا ہے، چنانچہ ایسے قبیح جرائم کا ہر صورت میں قلع قمع کرنے کے لیے حکومت کو ذرا بھی لچک نہیں دکھانی چاہیے۔ الغرض میڈیا کی پروپیگنڈہ طاقتوں کے باعث اصل حقائق اس طرح مسخ ہو کر رہ جاتے ہیں کہ عوام الناس تو کجا ہمارا دانشور طبقہ بھی اس قدر ژولیدہ فکری کا شکار ہو جاتا ہے، جس کا ایک نمونہ ہمارے انتہائی محترم جناب رعایت اللہ فاروقی صاحب کی مندرجہ ذیل پوسٹ ہے۔
’’دنیا کا سب سے کرپٹ ترین بزنس ادویات سازی و ادویات فروشی کا ہے۔ یہ واحد کاروبار ہے جو اصل بھی اس درجے کا جعلی ہے کہ پوری دنیا ان کے ہاتھوں یرغمال ہے۔ کسی وقت اس پر تفصیل سے لکھوں گا، آج بس ایک ہی چیز جان لیجیے۔ آپ کے محلے میں بنے میڈیکل سٹور پر دو قسم کی ادویات فروخت ہوتی ہیں۔ ایک اصلی دوسری جعلی، میڈیکل سٹور والا آپ کی شکل دیکھ کر طے کرتا ہے کہ آپ کو اصلی دینی ہے یا جعلی؟ اصل دوائی پر میڈیکل سٹور والے کو 15 فیصد جبکہ جعلی ادویات پر پچاس 50 فیصد نفع ہوتا ہے۔ یہ جعلی ادویات زیادہ کچھ نہیں کرتیں، بس آپ کے گردے فیل کر دیتی ہیں، آپ کے بچے کو دمے کا مریض بنا دیتی ہیں، آپ کی اماں جان کو شوگر اورہیپا ٹا ئٹس وغیرہ سے دو چار کر دیتی ہی،ں اور آپ کے ابا جی کی کھانسی صبح قیامت تک کے لیے ’ٹھیک‘ کر دیتی ہیں۔ وہ جعلی سٹنٹ تو یاد ہوں گے جو لاہور میں یہ مافیا دل کے مریضوں کو فروخت کر رہا تھا۔ شرم آنی چاہیے شہباز شریف کو جو انسانی جانوں سے کھلواڑ کرنے والوں کے خلاف بھاری جرمانوں اور کاروبار سیل کرنے کے قوانین بناتا ہے۔‘‘
ایک تبصرہ: سر جی لائیکس کی بھرمار بتا سکتی ہے کہ عوام اس کھلواڑ سے کس درجہ تنگ ہیں اور بہت سے لائکس بر گرز کے بھی ہیں جو ’شرم آنی چاہیے شہباز شریف کو‘ پڑھ کر لائک ٹھوک رہے ہیں، ویسے یہ ڈرگ مافیا دنیا بھر میں اسی طرح گھناؤنے بزنس میں ملوث ہے اور یہ بزنس اسلحہ اور منشیات کے بزنسوں کو بھی مات دے چکا ہے۔ اللہ ہمیں ہمارے بچوں کو اور تمام مسلمانوں کو محفوظ رکھے۔‘‘

میں خود جناب فاروقی صاحب کے دینی اور سیاسی امور پر علمی تجزیوں کا پرانا مداح ہوں مگر اس معاملے میں فاروقی صاحب کی اس قدر بےبنیاد اور لغو پوسٹ پر جس طرح لوگوں نے آنکھیں بند کر کے داد و تحسین کے ڈونگرے برسائے، انھیں پڑھ کر اپنے تعلیم یافتہ لوگوں کے ذہنی افلاس پر ماتم کرنے کو جی چاہا مگر اس کے بعد جب حسن نثار اور حفیظ اللہ نیازی جیسے صف اول کے دانشور بھی حقائق کے خلاف نہایت سخت کالم دے ماریں اور ہر شہری اس معاملے میں انتہائی کنفیوژن کاشکار ہو، وہاں غلط فہمیوں کی اس وسیع خلیج کو پاٹنے کے لیے اس حساس مسئلے کو گہرائی میں جا کر سمجھنا اور بیان کرنا ضروری ہوگیا تھا۔

اصل صورتحال جاننے کے لیے ادویات کی کوالٹی کنٹرول کے پورے نظام کو سمجھ لیجیے۔ ہر دوا تیار کرنے سے پہلے ایک دوا ساز ادارہ انتہائی پیچیدہ عمل سے گزر کر لائسنس حاصل کرنے کے بعد اس کا (Manufacturer) اس دوا کے متعلق تمام معلومات فراہم کر کے اتھارٹی سے رجسٹرڈ نمبر حاصل کرتا ہے۔ اور پھر انٹرنیشنل سٹینڈرڈ ز (SOPs) کی روشنی میں اسے تیار کروا کر اپنی وارنٹی (Warranty) کے ساتھ مارکیٹ میں بھیجتا ہے۔ اس ورانٹی کا مطلب ہے کہ اس کا دوا ساز ادارہ اصل دوا کے معیاری ہونے کا ضامن اور ذمہ دار ہے۔ دوا کے مریض تک پہنچنے کے جتنے مراحل (Channels) ہیں یعنی ڈسٹری بیوٹر، ہول سیلر اور ریٹیلرز، سب کے پاس اس وارنٹی کا ہونا ضروری ہے۔ حکومتی ایجنسیاں کسی بھی مرحلے پر دوا کے سیمپل (Sample) مقررہ طریق کار کے مطابق حاصل کرکے اسے ڈرگ ٹیسٹنگ لیبارٹری سے چیک کروا سکتی ہیں۔ اور کسی خرابی کی صورت میں اسے بنانے والے کے خلاف کارروائی ہو گی۔ اگر ڈسٹری بیوٹر یا میڈیکل سٹور والا اس کی وارنٹی نہ دکھا سکے تو اس کے خلاف بھی کارروائی ہوگی بلکہ پورے نیٹ ورک کو پکڑا جائے گا، اور اگر وارنٹی موجود ہے تو صرف اس کے بنانے والے (warrantor) کے خلاف کاروائی ہوگی۔

گویا اگر ایک دوا فروش کے پاس ہر دوا کی وارنٹی موجود ہے تو وہ سو فیصد خالص ادویات بیچ رہا ہے۔ اگر کوئی دوا بغیر وارنٹی کے اس نے حاصل کی ہے تو اس کے جعلی ہونے کا امکان موجود ہے۔ اور ٹیسٹ کروانے پر وہ واقعی جعلی نکل آئی تو دکاندار کے خلاف سخت ترین کارروائی ہوگی۔ حکومت کے ڈرگ کنٹرول کے ادارے دوا سازی اور ان کی ترسیل و فروخت کے تمام مراحل کو طے شدہ معیارات کی روشنی میں جانچتے اور پرکھتے ہیں۔ بےشمار ضوابط اور کڑے اصولوں سے معمولی انحراف پر بھی چالان اور جرمانے کرتے ہیں تاکہ عوام کو معیاری ادویات ان کے مقرر کردہ معیاری ماحول اور طریقہ کار کے مطابق مہیا ہو سکیں۔ نیز کروڑوں، اربوں کی انوسٹمنٹ سے بزنس کرنے والے ادارے (Company) کو اپنی ساکھ بنانے اور قائم رکھنے کے لیے ہر عمل (Process) کی کوالٹی کو کنٹرول میں رکھنا سب سے پہلی شرط ہوتی ہے۔ کوئی بھی بزنس معمولی کوتاہیوں سے بڑے نقصان (Loss) کا متحمل نہیں ہو سکتا، لہٰذا کوالٹی کنٹرول محض انتظامی و قانونی پابندی ہی نہیں، اس کی مالی ضرورت بھی ہے۔

اس پورے نظام میں کوئی لائسنس یافتہ ادارہ جعلی تو کجا غیر معیاری دوا بنا کر بھی مارکیٹ میں نہیں رہ سکتا۔ ہاں اگر کوئی بےوقوف لاکھوں روپے کی مشینری خفیہ طور پر کہیں لگا کر جعلی ادویات یا مشہور برانڈز کی نقل تیار کر کے اپنے خفیہ نیٹ ورک کے ذریعے فروخت کرتا ہے تو ایسا شخص یا گروہ انسانیت کا بدترین دشمن ہے، جنھیں پکڑ کر کڑی سے کڑی سزائیں بلکہ سرعام پھانسیاں دینا ساری انڈسٹری کے لوگوں کا مطالبہ بھی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ جن جعلی ادویات کا ڈھنڈورا دن رات الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا پر پیٹا جا رہا ہے، اس کی حقیقت کیا ہے؟ حکومت نے جعلی ادویات کی کتنی فیکٹریاں اور کتنے افراد کب کب پکڑے ہیں؟ جعلی ادویات کے خاتمے کا درست طریقہ کیا ہے؟ کیا قانون میں ترامیم اور اشتہاری مہم سے جعلی ادویات کے کاروبار پر کوئی اثر پڑے گا؟ کیا قانون میں ترامیم کے خلاف سڑکوں پر آنے والے فارما سیوٹیکل انڈسٹری کے ہر مرحلے سے منسلک تمام ادارے اور تنظیمیں عوام کو جعلی یا غیر معیاری ادویات کھلانا چاہتی ہیں۔ اور حکومت اس ڈرگ مافیا کے خلاف اور عوام کے حق میں پوری استقامت سے ڈٹ جانے کے باعث تاریخی ہیرو کہلانے کی مستحق ہے؟ یا سب کچھ اس کے الٹ ہے؟ اس سارے مسئلے کی اصل جڑ کیا ہے؟ اور اس کا درست علاج یا حل کیا ہے؟

جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اصلی ادویات بھی دراصل جعلی ہی ہیں، ان کی اطلاع کے لیے عرض ہے کہ دنیا بھر کی ادویات کی صنعت کا حجم 1200 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے۔ جدید میڈیکل سائنس کی تیز رفتار ترقی کی بدولت تشکیل پانے والے ہیلتھ کئیر سیکٹر کے وسیع نظام سے منسلک یہ ایک اہم شعبہ ہے۔ دنیا بھر میں اس کی کوالٹی، اثر پذیری اور مضمر اثرات کو کنٹرول اور مانیٹر کرنے کے لیے طاقتور ادارے اور جامع طریق کار (Mechanism) موجود ہیں۔ اس پورے نظام کی خرابیوں اور limitations پر بات کی جا سکتی ہے، مگر اس پورے نظام یا اس کے اہم ستون کو جھٹلانا اور جعلی قرار دینا محض حقائق کا منہ چڑانے کے مترادف ہے۔

دنیا بھر میں یقینا چند دیگر طریقہ علاج یا قدیم ترین طریقہ ہائے علاج کی بھی کچھ افادیت ہو سکتی ہے، مگر اس کو کیا کہیں گے کہ جب ساری عمر انگریزی علاج اور دوائیوں کی برائیاں کرنے والے حکیم اور ہومیو پیتھک ڈاکٹر اپنے اور اپنے بچوں کے علاج کے لیے خود ایلو پیتھک ڈاکٹروں اور ادویات سے استفادہ کرتے ہیں۔ بہرحال دنیا بھر میں سب سے کامیاب ترین علاج کو جعلی قرار دینے والے دانشور حضرات خود بےشک حکیموں اور پنساریوں سے استفادہ کرتے رہیں، مگر جھوٹی افواہوں اور پراپیگنڈے سے عوام کو گمراہ نہ کریں بلکہ حقائق اور جدید تحقیق کے تقاضوں کی روشنی میں بات کریں۔

میڈیکل سٹور سے ملنے والی ادویات کے متعلق اصل حقائق یہ ہیں. ہر سٹور کی سیل کا تقریباً نصف حصہ (50%) ملٹی نیشنل کمپنیوں کی ادویات پر مشتمل ہوتا ہے جو کہ امریکہ، یورپ اور جاپان سے تعلق رکھتی ہیں۔ دنیا کے بیشتر ممالک میں اپنے ایک ہی انٹرنیشنل سٹینڈرڈ اور طریقہ کار (SOPs) کے مطابق ادویات تیار کرتی ہیں. اس وقت پاکستان میں تقریباً25 ملٹی نیشنل کمپنیوں کے جدید ترین ٹیکنالوجی سے لیس پلانٹ کام کر رہے ہیں جو پاکستانی فارما انڈسٹری کا سب سے بڑا حصہ (share) اپنے عالمی معیار کے مطابق فراہم کر رہے ہیں، اور لاکھوں پاکستانیوں کو جدید تربیت اور بہترین روزگار کی فراہمی کا ذریعہ بھی ہیں۔ باقی نصف حصہ تقریباً60 0 نیشنل فارماسیوٹیکل کمپنیوں کی تیارکردہ ادویات ہیں جن میں سے کئی تو اپنے سسٹم اور طریقہ کار (Practices) کے اعتبار سے ملٹی نیشنل کمپنیوں سے کسی طرح کم نہیں۔ نہ صرف پاکستان میں ان کمپنیوں کا مارکیٹ شیئر مسلسل ترقی کر رہا ہے بلکہ انٹرنیشنل مارکیٹ میں بھی پاکستانی کمپنیوں کی ایکسپورٹ کافی پھیل چکی ہے جو کہ ان کے اعلیٰ معیار کے بغیر نہیں ہو سکتی تھی۔ نیشنل اور ملٹی نیشنل پاکستانی فارما انڈسٹری کا مجموعی حجم 4 ارب ڈالر ہے جس میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

ادویات کی تیسری قسم لوکل کمپنیوں کی ادویات ہیں جو کمرشل پیک کے بجائے کھلے ڈبوں میں (loose) گولیاں اور سیرپ کے پونڈ پیک جنرک ادویات تیار کرتی ہیں۔ یہ ادویات انتہائی سستے داموں ہول سیل مارکیٹ میں فروخت ہوتی ہیں، اور زیادہ تر ڈاکٹر حضرات (GPs) اپنے کلینک میں روزانہ کی بنیاد پر مریضوں کو خوراک بنا کر دینے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ Prescription میں نہ لکھے جانے کے باعث یہ جنرک ادویات میڈیکل سٹوروں پر سیل نہیں ہو پاتیں، الایہ کہ کوئی میڈیکل سٹور والا خود عطائیت کے ذریعے انھیں سیل کر دے۔ صرف ایسی دوائیوں پر اسے اچھا Margin دستیاب ہوتا ہے۔ اول الذکر تمام نیشنل اور ملٹی نیشنل ادویات پر ہر میڈیکل سٹور والے کو (Fix Margin) تقریباً 15% ہی دستیاب ہوتا ہے۔ تاہم یہ انتہائی سستی جنرک ادویات بھی تمام کی تمام رجسٹرڈ ہوتی ہیں اور ان کے معیار کو کنٹرول کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔

مندرجہ بالا ساری تفصیلات کا مقصد یہ تھا کہ ادویات کی فیلڈ پر رائے زنی کرنے سے پہلے تمام ناواقف لوگ اور دانشور حضرات اس فیلڈ کے پورے نظام اور حرکیات (Dynamics) کو سمجھ کر حقائق پر مبنی تجزیہ فرمائیں تو ملک و قوم کے لیے بہتر ہوگا۔ اب ہم اپنے تجزیے کی جانب آتے ہیں۔

اگر جعلی ادویات کے خلاف حکومتی مہم سے مراد یہ ہے کہ 600 لائسنس یافتہ کمپنیوں میں کوئی ایک یا زیادہ کمپنیاں جعلی ادویات بنا رہی ہیں تو حضور ان کمپنیوں کے تمام کوائف آپ کے پاس ہیں، بلکہ ان سب نے تو ہر طرح کی جانچ پڑتال کے لیے اپنے آپ کو خود پیش کیا ہے۔ کیا حکومت کوئی ایک بھی مثال ایسی دے سکتی ہے کہ رجسٹرڈ فارما انڈسٹری میں سے کبھی بھی کسی نے جعلی ادویات بنائی ہوں اور وہ محض قانون کا سہارا لے کر بچ گیا ہو، اور اب نئی قانون سازی اور حکومتی اشتہاری مہمات کے نتیجہ میں وہ شکنجے میں آجائے گا۔ جناب کس کو دھوکا دے رہے ہیں۔ عقل اور منطق اس بات کو نہیں مانتی کہ کوئی شخص اتنے کڑے مراحل سے گزر کر ادویات سازی کا لائسنس حاصل کرکے اور کروڑوں کی مشینری اور دیگر سرمائے سے محض جعلی ادویات کا کاروبار شروع کر دے اور وہ فیکٹریوں کے ڈرگ انسپکٹر سے بھی بچ جائے اور اپنی جعلی ادویات کو وارنٹی کے ساتھ مارکیٹ میں پھیلا دے اور ہر ہر ضلع اور تحصیل کے تمام انسپکٹروں سے بھی بچ جائے، حتیٰ کہ ڈرگ ٹیسٹنگ لیبارٹری کو بھی رشوت دے کر اپنی جعلی دوائیوں کے تمام سیمپل پاس کروا لے، یا کوئی بھی دوا جعلی ثابت ہونے کے بعد محض قانون میں سقم ہونے کے باعث ڈرگ کورٹ اسے سستا چھوڑ دے۔ یقینا عقلی طور پر ایسا کچھ ممکن ہے نہ تاریخ اور واقعات سے حکومت کوئی ایسی مثال پیش کر سکتی ہے۔ فارما سوٹیکل انڈسٹری کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ کوئی بھی لائسنس یافتہ کمپنی ایک بھی جعلی دوا نہیں بنا سکتی اور غیر معیاری (Out of Specs) ادویات ثابت ہونے کی شرح پاکستان میں محض 2% جبکہ انڈیا میں 23% ہے۔ اس سے دو باتیں ثابت ہوتی ہیں کہ یا تو واقعی پاکستانی ادویات بےحد معیاری ہیں یا پھر انڈیا کی ڈرگ ٹیسٹنگ لیبارٹری زیادہ معیاری ہے جو اس قدر بڑی انڈسٹری کے سیمپل اتنی بڑی تعداد میں غیر معیاری ثابت کر دیتی ہے۔ اگر ایسا ہے تو جناب اپنے مانیٹرنگ نظام کو درست کریں نہ کہ پچاس سے زائد ممالک کو ایکسپورٹ کرنے والی انڈسٹری کا میڈیا ٹرائل شروع کر دیں، کسی خفیہ مقام پر ادویہ سازی کے مناظر دکھا کر عوام الناس کو پوری انڈسٹری سے بدظن کریں، اور اپنے دشمنوں کو بھی پروپیگنڈہ کا موقع دے کر عالمی منڈی میں ابھرتی ہوئی اپنے وطن کی فارما انڈسٹری کی ایکسپورٹ بند کروا دیں۔ فارما انڈسٹری والے تو خود جعلی ادویات کے مافیا کے مکمل خاتمے اور اسے سخت ترین سزا دینے کے حق میں ہیں۔ اگر حکومت واقعی عوام کو خالص اور معیاری ادویات فراہم کرنے کے عزم میں مخلص ہوتی تو اس کا طریقہ یہ تھا کہ پہلے اس فیلڈ سے متعلق تمام سٹیک ہولڈرز اور ماہرین سے مشاورت کی جاتی جیسا کہ اب بعد از خرابی بسیار کی جا رہی ہے، اصل مسائل اور ان کی جڑ (Root Cause) کا تعین کیا جاتا اور مسئلے کے حل کے لیے درست حکمت عملی تشکیل دے کر Focused اور Targetted اقدامات اٹھائے جاتے۔

ہمارے مطابق جعلی ادویات اگر کوئی ہیں، خواہ خفیہ مقام پر کوئی بنا رہا ہے یا کوئی لائسنس یافتہ یونٹ کھلے عام بنا رہا ہے، ان کا تدارک بھاری بھر کم حکومتی مانیٹرنگ ایجنسیاں نہایت آسانی کے ساتھ کر سکتی ہیں، بشرطیکہ وہ درست طور پر کام کرنا شروع کر دیں۔ اگر حکومتی ڈرگ کنٹرول کے پورے نظام میں ایماندار، فرض شناس اور باصلاحیت افراد کا (Right man at the Right job) کے اصول پر تقرر ہو جائے اور وہ جعلی ادویات کے خلاف تمام جدید ذرائع و وسائل استعمال کرتے ہوئے Focused & smart working کریں تو کسی قانونی ترمیم اور اشتہاری مہمات کے بغیر ہی جعلی ادویات کا ناسور چند دنوں میں ختم ہو جائے گا۔ اصل صورتحال یہ ہے کہ حکومتی افراد کی بڑی اکثریت دن رات مچھر چھاننے اور اونٹ نگلنے میں مصروف رہتی ہے۔ ان کی زیادہ تر مساعی کا اصل ہدف محض اپنی جیبیں بھرنا ہوتا ہے جس کی وجہ سے وہ صحیح کام کرنے والوں کو تو معمولی ایشوز پر خوب پریشان کرتے ہیں جبکہ بڑے پیمانے پر غلط کرنےوالوں سے صرف نظر کر جاتے ہیں۔ یقینا چند ایک اچھے لوگ بھی ان محکموں میں موجود ہیں مگر مجموعی ماحول اور نظام میں اپنی ذاتی عظمت کے باوجود ایسے لوگ غیر مؤثر ہو جاتے ہیں۔ اس تناظر میں ہر شخص تسلیم کرے گا کہ ساری خرابی کی اصل جڑ یہی کرپشن اور نااہلی کو پروان چڑھانے والا نظام ہے جو زندگی کے ہر شعبے میں اوپر (Top level) سے نیچے تک سرطان کی طرح سرایت کیے ہوئے ہے۔ جو خاندان گذشتہ 30 سالوں میں 20 سال سے زائد صوبہ پنجاب کے سیاہ و سفید کا مالک رہا ہو، وہ آج جعلی ادویات کے خاتمے کا ٹی وی اور اخبارات میں پلان بنا رہا ہو، تو عوام خود فیصلہ کر لیں کہ اصل خرابی کہاں ہے۔ اور اس نام نہاد ڈرگ مافیا کو اتنا عرصہ چھوٹ دینے کا اصل ذمہ دار کون ہے؟ اگر فاروقی صاحب کی بیان کردہ صورتحال کا 5% بھی درست مان لیا جائے تو ایسا ہونا معمولی بات نہیں ہے بلکہ بھاری تنخواہیں پانے والی دیوہیکل حکومتی مشینری اور بلند بانگ دعوے کرنے والے حکمرانوں کے منہ پر ایک طمانچہ ہے۔ اور اس کے سب سے بڑے ذمہ دار تین چار حکومتیں انجوائے کرنے والے ان کے ممدوح حکمران ہی قرار پاتے ہیں۔

بہرحال اگر اسی قسم کی سیاسی قیادت اور حکومتی مشینری کو ہی قائم رکھتے ہوئے محض قانون میں ترامیم کے ذریعے اس شعبے کی اصلاح کرنا مقصود ہے تو کم از کم قوانین کو ہی کچھ قابل عمل، قابل فہم اور جدید تقاضوں سے ہم آہنگ بنوا دیجیے۔ بہت سے قوانین پر بات ہو سکتی ہے مگر یہاں میں صرف چند مثالیں فارمیسی کے متعلق پیش کروں گا۔ مثلاً فارمیسی پر ہر وقت فارماسسٹ کی موجودگی کو لیں، پاکستان میں رائج سسٹم میں یہ بالکل ناممکن بات ہے۔ ظاہر ہے کہ کوئی انسان فارمیسی کھلنے کے مکمل دورانیہ (جو عموماً 18 تا 24 گھنٹے پر محیط ہوتا ہے) کی ڈیوٹی مسلسل نہیں کر سکتا اور اگر تین یا چار فارماسسٹ رکھیں تو بڑی سے بڑی فارمیسی بھی فارما سسٹ کو اس کی پوری اور جائز تنخواہ دینے کی صورت میں مکمل طور پر دیوالیہ ہو جائے گی۔ یورپ اور امریکہ وغیرہ میں یقینا ہر وقت فارماسسٹ ہوتا ہے جو ہر (Prescription) کی filling خود کرتا ہے۔ مگر وہاں اس کی کنسلٹیشن فیس جو ایک نسخے کی ہر دوا پر ڈالروں کے حساب سے چارج کی جاتی ہے۔ تو اس طرح فارمیساں 4 فارماسسٹ رکھ کر بھی منافع بخش کاروبار کر سکتی ہیں۔ کیا پاکستان میں یہ ممکن ہے؟ یہاں عملاً 5% فارمیسیاں بھی ایک فارماسسٹ کو پوری تنخواہ پر نہیں رکھ پاتیں، اور جہاں فارماسسٹ کل وقتی کام کرتا ہو، وہاں بھی ڈرگ انسپکٹر دوسری شفٹ میں آ کر ان کا چالان کر دیتا ہے. اور پوری جاب کرنے والا فارماسسٹ بھی اور اس دکان کا مالک بھی سزا کا حقدار ٹھہرتا ہے۔ تو ایسے قانون اور ماحول کی وجہ سے ہی دکان دار کرائے پر ڈگری لے کر پیسے بچانے اور ڈرگ انسپکٹر کو اس میں سے حصہ دینے میں ہی عافیت محسوس کرتا ہے۔ ہم کہتے ہیں کہ جناب یورپ اور امریکہ کی طرح یہاں بھی ہر وقت فارماسسٹ موجود ہونا چاہیے، مگر آپ وہ سارا نظام لاگو کریں، آدھا تیتر اور اور آدھا بٹیر سے کام نہیں چلے گا۔

دوسری مثال نارکوٹکس اور کنٹرولڈ ادویات کی رجسٹریشن کی ہے۔ یہ بھی ایک عجیب و غریب اور تقریباً ناممکن العمل پابندی بنا دی گئی ہے۔ نارکوٹک ادویات کو کنٹرول کرنا یقینا ضروری ہے مگر گزشتہ چند سالوں میں کنڑولڈ ادویات کی فہرست میں بے پناہ اضافہ کر دیا گیا ہے۔ پہلے تمام سٹیرائیڈ ادویات کو اس لسٹ میں شامل کر دیا گیا جبکہ باہر ان کا ایک چھوٹا سا گروپ صرف (Anabolic Steroids) کو ہی کنڑولڈ لسٹ میں رکھا گیا ہے۔ بعدازاں Dextromethorphan رکھنے والے تمام سیرپ اور گولیاں بھی اس لسٹ میں شامل کر دی گئیں، حالانکہ یہ دوا دیگر ممالک میں OTC ڈرگ ہے اور اب Bezodiazepine گروپ کی تمام ادویات کے تمام برانڈز کنڑولڈ لسٹ میں شامل کر دیے گئے ہیں۔ اس قدر طویل لسٹ کی تمام ادویات کی خرید و فروخت کو رجسٹر میں مکمل درج کیا جائے تو فارماسسٹ تمام دن یہی کام کرتا رہےگا، اور اسے مریضوں کو گائیڈ کرنے (Counselling) کا وقت ہی نہیں ملے گا جبکہ ڈرگ انسپکٹر اکا دکا انٹری کے فرق پر بھی چالان ہاتھ میں تھما دیتے ہیں خواہ باقی تمام رجسٹر مکمل Maintain کیا جارہا ہو۔ ایک طرف دنیا مکمل Paperless اکانومی کی طرف ڈھل رہی ہے جبکہ ہمارے ڈرگ انسپکٹر نارکوٹکس کے کمپیوٹر ریکارڈ کو تسلیم ہی نہیں کرتے۔ محض کاغذی کاروائیوں پر سارا زور دیا جاتا ہے۔ اسی طرح ہر وقت ٹمپریچر قائم نہ رکھنے پر کڑی سزائیں تب دیں جب حکومت ہر وقت بجلی بھی فراہم کرے، جہاں دس دس گھنٹے بجلی ہی دستیاب نہ ہو، وہاں کیا یہ پابندی عملاً ممکن ہے؟

اس قسم کے بےشمار عملی مسائل ہیں جن کا فرسودہ قوانین اور نظام کے باعث ادویہ سازوں اور ادویہ فروشوں کو سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان ایشوز پر کھلے انداز میں مباحثہ ہونا چاہیے۔ مہذب ممالک میں حکومتی ایجنسیاں اور انڈسٹری کے تمام سٹیک ہولڈرز باہمی مشاورت کے ذریعے ایسے تمام مسائل کا حل نکالتے اور پالیسیاں وضع کرتے ہیں، مگر ہمارے ملک کا تو باوا آدم ہی نرالا ہے۔ پہلے ادویات کی فیلڈ سے بالکل ناآشنا MPA صاحبان نئے قوانین بنا ڈالتے ہیں، جن کی بدولت جعلی ادویات کا تو کیا خاتمہ ہونا تھا، انتہائی غلط حکمت عملی کے باعث فارما سیکٹر کی ترقی اور Advancement کا عمل ہی خطرے میں پڑ گیا ہے۔ پنجاب حکومت کی ان ترامیم کے نتیجے میں جہاں بےشمار چھوٹے دکاندار اور فیکٹری مالکان سراپا احتجاج ہیں، وہاں شعبہ ادویات کے ماہرین فاماسسٹ اور عالمی معیار کا بزنس کرنےوالے فارمیسی مالکان اور بڑے صنعتکار حتی کہ ملٹی نیشنل کمپنیاں بھی عدم تحفظ اور بےیقینی سے دوچار ہوگئے ہیں۔

عوام کو معیاری ادویات کی فراہمی کے لیے فارمیسی پروفیشن کا فروغ ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ یونیورسٹیوں سے فارمیسی کی اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے بعد فارماسسٹ ادویات سے متعلقہ ہر شعبے میں جدید تقاضوں سے ہم آہنگ معیاری خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ یہ فارماسسٹ جب ادویہ سازی (Manufactruring) کے شعبے میں آنا شروع ہوئے تو جدید ترین پلانٹ (Good Manufacturing Practices) اور عالمی معیار کے (SOPs) کے مطابق ادویہ سازی میں انقلاب لے کر آئے۔ ہسپتالوں میں گئے تو تمام تر مشکلات اور عالمی ضابطوں کے مطابق ان کا طے شدہ کردار (Role) نہ ملنے کے باوجود Pharmaceutical care کے تقاضے نبھا رہے ہیں۔ اسی طرح گذشتہ چند سالوں میں کمیونٹی فارمیسی کے شعبے میں فارماسسٹ Investors اور پروفیشنلزکے آنے سے جدید اور عالمی معیار کی فارمیسیوں کا ٹرینڈ شروع ہو گیا۔ الغرض ہر لحاظ سے فارماسسٹ ہی اس لائف سیونگ پرفیشن کے Custodians قرار پاتے ہیں۔ حکومت اگر واقعی ادویات کے شعبے کی اصلاح چاہتی ہے تو اسے فارمیسی پروفیشن کی سرپرستی کرنی چاہیے تھی۔ مگر اس کی عجلت اور عاقبت نااندیش پالیسی کی بدولت فارماسسٹوں کے لیے بھی اس شعبے میں بزنس یا جاب کرنا نہایت خطرناک اور Risky بنا دیا گیا ہے۔ اب وہ ہر وقت اس خطرہ سے دوچار ہیں کہ انتہائی اعلیٰ معیار کی سروس کے باوجود کب ڈرگ انسپکٹر یا دیگر ایجنسیوں کے اہلکار انھیں معمولی کمزوریوں یا چند ناممکن العمل قوانین (جن کا پیچھے ذکر کیا گیا ہے) سے انحراف کی بنا پر بلیک میل کرنا شروع کر دیں یا ’تعاون‘ نہ کرنے پر ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ بزنس مین اور پروفیشنل کو جیل بھیج کر اس کی ساری عزت خاک میں ملا دیں۔ ایسے ماحول میں کون سا تعلیم یافتہ اور ایماندار شخص اس شعبے میں کام کر سکے گا۔

حضور والا! اگر ادویات کا معیار مطلوب ہے تو سب سے پہلے اس کے پروفیشنلز کو احساس تحفظ دینا ہوگا، لہٰذا تمام فارماسسٹ بجا طور پر یہ مطالبہ رکھتے ہیں کہ جس طرح کسی بےضابطگی (Misconduct) کی صورت میں وکلا کے خلاف ان کی بار تادیبی کارروائی کرتی ہے، اور ڈاکٹروں کا احتساب ان کا ادارہ PMDC کرتا ہے، اسی طرح فارماسسٹوں کے خلاف تادیبی کارروائی فارمیسی کونسل کے پلیٹ فارم سے ہونی چاہیے۔ فارماسسٹ کو اپنے پرفیشنل معاملات میں کوتاہی پر عدالتوں میں گھسیٹنا کسی طور مناسب نہیں۔ ہاں جو کسی بڑے جرم کا مرتکب ہو، اس کے خلاف سخت کارروائی ضرور ہونی چاہیے۔ مگر ہمارے ہاں مانیٹرنگ کے ناقص نظام، اہلکاروں کے دہرے معیارات، ذاتی پسند ناپسند اور کرپشن کے باعث ہوتا یہ ہے کہ ایک طرف عالمی معیار کے مطابق سروس دینے والوں کو ناجائز تنگ کیا جاتا ہے، اور دوسری طرف حکام کی ناک کے عین نیچے پنجاب اسمبلی اور محکمہ صحت کے قرب و جوار میں جابجا دھوپ اور مٹی میں رکھے سٹالوں اور کھلی دکانوں پر بھی ادویات فروخت ہو رہی ہیں۔ ایک طرف ترقی، خوشحالی، گڈگورننس اور کرپشن کے خاتمے کے بلند بانگ دعوے کیے جا رہے ہیں، دوسری طرف کہیں فارما ایکسپورٹ کا خاتمہ ہو رہا ہے۔ کہیں شعبے کو ترقی دینے والے پرفیشنلز اور ایماندار تاجروں کو بھی بھگایا جا رہا ہے، جبکہ کرپٹ انتظامیہ کو درست کرنے کے بجائے اور منہ زور بنا دیا گیا ہے۔ ایک طرف یورپ اور امریکہ سے بھی سخت قوانین اور سزائیں لائی جا رہی ہیں۔ دوسری طرف وہی پرانا فرسودہ نظام اسی طرح جاری و ساری ہے جس میں نہ فارمیسی سے دوا لینے کے لیے Prescription کی کوئی پابندی ہے، نہ ڈاکٹروں کی غلطیوں اور Advorse drug reactions کی رپورٹنگ کا کوئی بندوبست ہے، نہ ترقی یافتہ ممالک کی طرح فارماسسٹوں کو ان کا ضروری کردار اور مراعات دی گئی ہیں، نہ OTC ڈرگ لسٹ اور نہ پاکستان فارما کوپیا کو مکمل اور جدید اسلوب میں ڈھالا گیا ہے۔ شیڈول G کو پہلے دس سال کے لیے معطل کر دیا جاتا ہے، اور اب دوبارہ نافذ العمل ہونے کا وقت آنے پر بےشمار تنازعات کھڑے کر دیے گئے ہیں۔ ملک کے طول و عرض میں پھیلے ہوئے لاکھوں پرانے سٹائل میڈیکل سٹوروں کو جدید فارمیسیوں میں ڈھالنے کی کوئی منصوبہ بندی ہے نہ Political will۔ باتیں ہم امریکہ کی کرتے ہیں جہاں Blue button movement کے ذریعے ساری عوام اپنا جدید ترین میڈیکل ریکارڈ آن لائن حاصل کر سکتے ہیں جبکہ یہاں ہم سے ابھی تک جعلی ادویات ہی کنٹرول نہیں ہو رہی ہیں۔

جدید سسٹم تو دور کی بات، صرف سرکاری ہسپتالوں کی حالت زار پر ہی نظر ڈال لیں تو الامان و الحفیظ۔ ایک طرف الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا میں مسلسل چلنے والے خود ستائشی پر مبنی اشتہارات کی بھرمار اور دوسری طرف وطن عریز کے گلی کوچوں اور ہر شعبے کی اصل صورتحال دیکھ کر کہنا پڑتا ہے کہ ’’باتیں کروڑوں کی اور دکان پکوڑوں کی۔‘‘ حضور والا! محض قانون اور سزائیں سنا دینے اور جھوٹے اشتہارات چلا دینے سے جدید نظام تشکیل نہیں پا جاتے۔ اس کے لیے تو پہلے ہر سطح پر افراد کا پورا Mindset تبدیل کرنا ہوگا۔ نمائشی اقدامات اور سطحی (Cosmetic) تبدیلیوں کے بجائے Drastic اور جوہری تبدیلی لانا ہوگی، محض چھلکے کے بجائے مغز پر فوکس کرنا ہوگا۔ مسائل کو محض طاقت کے ذریعے Quick Fix کرنے کے بجائے ان کا قابل عمل (Sustainable) حل نکالنا ہوگا۔ شارٹ ٹرم کے بجائے لانگ ٹرم اور روایتی کے بجائے Out of Box سوچ اور طریقوں سے کام کرنا ہوگا۔ شیڈول G کے نفاذ کے لیے بڑی حکمت اور دور اندیشی سے کام لینا ہوگا۔ اگر ہمارے ڈرگ انسپکٹر اور تمام مانیٹرنگ اہلکار اصلاح کے جذبے سے پوری ایمانداری اور تندہی سے کام کریں، اچھے کام کی حوصلہ افزائی کریں، چھوٹی موٹی غلطیوں پر تنبیہ کریں، اور جہاں بدنیتی یا بڑی خرابی (Voilation) نظر آئے اس پر سخت ایکشن لیں، ڈرگ ٹیسٹنگ کے لیے جدید ترین لیب اور Transparant نظام تشکیل دیا جائے جس پر ہر کوئی اعتماد کر سکے، Sample collection کے لیے درست جگہوں کا بروقت انتخاب کیا جائے، تمام لائسنس یافتہ یونٹس، ڈسٹری بیوشن، چینلز، ہول سیل اور پرچون کی مکمل Coverage کے لیے جدید سائنسی طریقے اختیار کیے جائیں نہ کہ پسند ناپسند کی بنیاد پر کسی کو تنگ کرنے یا محض خانہ پری کے لیے یہ کام کیے جائیں، تو مجھے یقین ہے کہ اگر صحیح سپرٹ، طریق کار اور ایک اخلاقیات پر مبنی جدید ترین نظام اور ماحول کے تحت کام کیا جائے تو یہ مسائل پیدا ہی نہیں ہوں گے. مگر جہاں ہر معاملے کو مفادات اور سیاست کے نقطہ نظر سے دیکھا جائے، سرکاری محکمے اور پالیسیاں محض سیاست چمکانے کے لیے ایک آلہ کے طور پر استعمال ہوتی رہیں، زندگی کا ہر شعبہ ہی اخلاقی بحران کی زد میں ہو، جہاں سرکاری لیبارٹریوں میں ٹیسٹ ہونے والی ادویات میں غیرمعیاری ادویات 2% اور جعلی (Spurious) ادویات 0.01% بھی نہ ثابت ہوں، اور پانامہ لیکس کا فیصلہ آنے کے قریب بھونڈے طریقے سے چند ترامیم پاس کرا کر پوری انڈسڑی میں کہرام (Unrest) پیدا کر دیا جائے، اور پھر مظاہروں، ہڑتالوں اور اس کے نتیجے میں ہونےوالی قیمتی جانوں کے ضیاع کے بعد ان ترامیم کو معطل کرکے تمام سٹیک ہولڈرز کو مشاورت کے لیے بلا لیا جائے، ایک طرف مذاکرات بھی چل رہے ہوں اور دوسری طرف عوام کو خوفزدہ کرنے اور اپنی نام نہاد Good Governance کی دھاک بٹھانے کے لیے گھروں میں جعلی ادویات بننے اور ان پر چھاپہ پڑنے کے مناظر دکھا کر (خواہ عملاً ایسی چند فیکٹریاں بھی نہ پکڑی گئی ہوں) عوام کو گمراہ کیا جائے۔،جیسا کہ ابھی پچھلے دنوں میڈیا میں شہ سرخیوں کے ساتھ اعلیٰ حکام کی سرکردگی میں ایک Raid کے دوران جعلی ادویات کی فیکٹری پکڑے جانے کی خبر آئی، خبر کے انداز سے لگتا تھا کہ جیسے بڑا کارنامہ سرانجام دیا گیا ہے مگر تحقیق سے پتا چلا کہ وہ تو Neutraceuticals بنا رہے تھے، جنہیں حال ہی میں تمام ہربل ہیومیو پیتھک اور قدرتی ادویات سمیت DRAP کی رجسٹریشن حاصل کرنے کا کہا گیا ہے۔ اس کیٹیگری کی جو ادویات ابھی رجسٹرڈ نہیں ہیں، انھیں جعلی نہیں کہا جاسکتا ورنہ تو قرشی، ہمددر جیسی ثقہ کمپنیوں کی ادویات بھی جعلی قرار پائیں گی۔ اسی طرح دل کے مریضوں کے لیے سٹنٹ سکینڈل کا بھی بہت شور اٹھا، اس معاملے کی بھی ساری تفصیلات سے عوام آگاہ نہیں ہے۔ یقینا قیمتوں میں بےانتہا تفاوت اور کمپنیوں اور ڈاکٹروں کی ملی بھگت ایک حقیقت ہے، مگر ایک غیر رجسٹرڈ سٹنٹ کا جعلی ہونا ضروری نہیں۔ اسی طرح غیر معیاری (Sub-standard)، جعلی (Spurious or counterfeit) ادویات میں فرق کو ملحوظ خاطر رکھنا بھی انتہائی ضروری ہے۔ مگر جہاں انسانی جانوں سے متعلقہ حقائق کو گڈمڈ (Twist) کرنا خود حکمرانوں اور میڈیا کے دانشوروں کا وطیرہ ہو، وہاں عوام خاطر جمع رکھیں، آپ کے گردے اور دیگر اعضاء اصلی ڈاکٹر ہی بیچ کر کھا تے رہیں گے، ہر قسم کی اشیاء خوردونوش میں ملاوٹ رہے گی، حتی کہ ملٹی نیشنل کمپنیاں بھی دودھ میں لازمی زہر ڈالیں گی، اسی طرح جعلی ادویات بھی کڑے سے کڑا قانون بنانے کے باوجود جاری رہیں گی، اس سے محض رشوت کا ریٹ بڑھے گا۔ ہمارے حکمرانوں کو تو اصلی ویاگرا بھی مسلسل ملتی رہے گی مگر عوام کے لیے اصلی Essential drugs بھی ناپید ہوں گی۔
یہ چمن یونہی رہے گا اور ہزاروں جانور
اپنی اپنی بولیاں سب بول کر مر جائیں گے

ارے بھائی! جعلی ادویات، جعلی خوراک، جعلی ڈاکٹر (یا اصل مگر سنگدل) سے نجات چاہتے ہو تو پہلے جعلی جمہوریت، جعلی سیاستدان اور جعلی حکمران اور جعلی صحافت کو بدلو!
ہم خود بدلیں گے
تو بدلے گا پاکستان

 

Advertisements

Author: Alliance

I,m scientist and very happy to learn about the excellent facility provided by wordpress.com. I love the people who introduce this service.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s