PHARMACEUTICAL REVIEW

ISSN 2220-5187; We distribute and report the potential information of biological or life sciences – medicine, dentistry, pharmacy, nursing, veterinary, food, livestock, agriculture and public health. We publish the most current news, innovations, interviews and events (conferences, exhibitions, workshops, seminars). The professional bodies, business entrepreneurs, academic institutions and research organizations may contact us to market their events and business. We will help you to promote and advertise your products and services.


1 Comment

HELPING NORTH AMERICA REGAIN THEIR NUTRITIONAL BALANCE

Read this profound document where Axcess Global was asked to participate with Department of Defense, National Institue of Health and University of South Florida in preparing a document for Congress to recognize Ketones as a formal 4th Macronutrient on food labeling. https://xpressacademy.files.wordpress.com/2015/07/congressional-overview-for-supporting-ketone-supplementation-final.pdf

[Please understand these are 3rd party studies and opinions. We, Team Connections, nor ForeverGreen FGXpress corporate promote Ketopia or ketones to prevent, heal, treat or mediate ANY illnesses or diseases. Do NOT make product or health claims to promote Ketopia in any such way.]

CALLS
4 weeks “PRE” Ketopia Calls

Advertisements


Leave a comment

جوہانسبرگ: سائنسی ماہرین کے مطابق زمین کے حیاتیاتی اور ماحولیاتی نظام انسانی سرگرمیوں سے شدید دباؤ میں ہے اور مستقبل کی نسلوں کو اس ضمن میں صحت کے نئے چیلنجز کا سامنا ہوسکتا ہے۔

دنیا کے 3 بڑے شہروں کی خصوصی تقریبات میں جاری کی گئی راک فیلر فاؤنڈیشن اورلینسٹ کی رپورٹ میں دکھایا گیا ہے کہ زمین کا قدرتی نظام انسان کی زمین دشمن سرگرمیوں کی وجہ سے تبدیل ہورہا ہے اور انسانی صحت کا مستقبل داؤ پرلگ گیا ہے۔

رپورٹ میں دنیا کے 8 ممالک کے 15 ممتاز اداروں اور یونیورسٹیوں نے اپنی تحقیقات شامل کی ہیں جن پر مشتمل ایک کمیشن بنایا گیا تھا جس کا عنوان “عہدِانسانی میں انسانی صحت کی حفاظت” تھا۔ کمیشن کے مطابق کرہ ارض کے انسان اس وقت جو معاشی اورترقیاتی اہداف حاصل کررہے ہیں ان سے آنے والی نسلوں کا مستقبل رہن میں رکھا جارہا ہے۔ پائیداراورماحول دوست ترقی کا تصوردم توڑرہا ہے اوراس سے زمین کے قدرتی وسائل بری طرح متاثرہورہے ہیں جس سے آنے والے وقتوں میں انسانی صحت کو برقرار رکھنا مشکل ہوجائے گا۔ موسمیاتی تبدیلیوں، زمین کی زرخیزی میں کمی، پانی کے بحران، بحری تیزابیت اورسمندری خوراک کی بے دریغ استعمال سے قدرتی نظام شدید متاثرہورہا ہے اوراگریہ نظام اسی طرح چلتا رہا تو زمین پر انسانی صحت کی بقا اورسالمیت کو شدید خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق اس وقت انسانی آبادی 7 ارب بیس کروڑ افراد کے قریب ہے  جبکہ 2100 تک یہ آبادی تیرہ ارب سے زائد ہوجائے گی جس سے صحت اور ماحول کو کئی خطرات لاحق ہوں گے۔ کمیٹی نے تین شعبے ظاہر کئے ہیں جن پر فوری توجہ کی ضرورت ہے ان مجموعی قومی پیداوار پر غیرمعمولی انحصار،عوام الناس کی صحت متاثر کرنے والے معاشرتی اور ماحولیاتی عوامل کے ادراک میں ناکامی اور خطرات کو دور کرنے کے لیے عملدرآمد میں کوتاہی جیسے عناصر شامل ہیں۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ دنیا کے تمام لوگوں کو انفرادی سطح پر ماحول کے سدھار کے لیے کوشش کرنی چاہییں اور اس سے ہی کچھ بہتری پیدا ہوسکتی ہے کیونکہ 2030 سے 2050 آب و ہوا میں تبدیلیوں سے سالانہ ڈھائی لاکھ افراد لقمہ اجل بن سکتے ہیں۔


Leave a comment

کچھ لوگوں کی جلد اس قدر نازک اور حساس ہوتی ہے کہ شیونگ کے دوران اکثر لوگوں کی جلد پر زخم اور لال رنگ کے دھنے بن جاتے ہیں جس سے انہیں شیو کرنا دشوار ہو جاتا ہے تاہم تھوڑی سی احتیاط اور چند نسخوں سے اس مسئلے سے نجات حاصل کی جاسکتی ہے۔

دی کلاک: شیو کرنے میں جلد بازی میں نہ کریں اور شیو کرنے سے قبل اپنے چہرے کو اچھی طرح دھو لیں اس کے بعد چہرے پر فیشل کلیزنر لگا کر ایک منٹ کے لیے چھوڑ دیں اس کے بعد اب شیونگ کریم یا جیل لگائیں اور اچھی طرح لگا کر 2 سے 3 منٹ کے لیے چھوڑ دیں اور اگر انتظار نہ ہو رہا ہو تو اس دوران دانتوں کو برش کر لیں۔

شیونگ سے پہلے جیل کا استعمال: کچھ شیونگ کریم یا جیل لیکر داڑھی پر اچھی طرح مساج کریں تاکہ بال اوپرکی طرف آجائیں جس سے شیونگ کا عمل آسان ہوجائے گا۔ جیل عمومآ زیادہ لبریکیشن اور ٹراسنپیرنٹ لک دیتی ہے جس سے شیونگ کے دوران ریزر کو پھیرنے کی سہولت میسر آتی ہے تاہم اس کے لیے ضروری ہے کہ اچھی کوالٹی کا ریزر بلیڈ استعمال کیا جائے۔

درجہ حرارت کا خیال رکھیں: آرام دہ شیو کے لیے جلد کو گرم اور نم رکھنا ضروری ہے جس کے لیے آپ گرم موئسچرائزر تولیہ کا استمعال کریں تاکہ جلد کو شیو کے لیے تیار کیا جاسکے۔ اسی طرح اپنے ریزر کو گرم پانی کے باول میں رکھیں تاکہ ریزر تازہ اور جراثیم سے پاک رہے۔ شیو کرنے کے بعد اپنی جلد کو ٹھنڈے پانی سے دھویں جو جلن کے اثرات کو کم کردیتا ہے۔

دی کمانڈ: اگر آپ بہت رگڑ رگڑ کر شیونگ کرتے ہیں تاکہ جلد زیادہ صاف نظر آئے تو آپ بالوں کے رخ کی مخالف سمت ریزر گھماتے ہیں جس سے جلد جلنے لگتی ہے اور بال اندر کی طرف اگتے ہیں۔ اگر بال زیادہ گھنے ہیں تو پھر بالوں کے رخ کے مخالف سمت سے ریزر نہ گھومائیں۔

ان نسخوں کے استعمال سے آپ بہتر شیوکر پائیں گے اور چہرہ زیادہ فریش اور اسمارٹ نظر آئے گا۔


Leave a comment

ندن: ماہرین چشم نے آنکھ میں موتیے کے مرض میں مبتلا افراد کے لیے ایسے آئی ڈراپس تیار کرلیے ہیں جس سے بغیر آپریشن موتیے کا علاج ممکن ہوسکے گا۔

موتیے کا علاج صرف آپریشن کے ذریعے ہے جس میں نشتر کے ذریعے آنکھوں کا موتیا نکالا جاتا ہے اور ہر سال لاکھوں افراد اس علاج سے گزرتے ہیں لیکن اب ایک سائنسی جریدے کے مطابق سائنسدانوں نے لینوسٹیرول نامی ایک ایسے قدرتی مالیکیول کا آئی ڈراپر تیار کیا ہے جسے آنکھ میں ڈالا جائے تو موتیا سکڑتا چلا جاتا ہے۔

اس لینوسٹیرول دوا کو 2 ایسے کتوں پرآزمایا گیا جن میں قدرتی طور پر موتیا کا مرض موجود تھا اور 6 ہفتوں تک استعمال کے بعد ان میں موتیا کم ہوا اور دھندلاہٹ بھی کم ہوتی گئی جس کے بعد ماہرین اس پر مزید تحقیق کے لیے پر امید ہیں،بعض ماہرین کا خیال ہے کہ انسانوں پر لینوسٹیرول کے علاوہ دیگر مالیکیولزبھی آزمانے چاہئیں تاکہ بغیر جراحی موتیا جیسے اہم مرض کا خاتمہ کیا جاسکے۔

واضح رہے کہ موتیا کا مرض پسماندہ ممالک میں عام طور پر پایا جاتا ہے جس کے باعث ان ممالک میں بیشتر افراد نابینا ہوجاتے ہیں۔


Leave a comment

اوٹاوا: ایک دن میں 2 گھنٹے سے زائد فیس بک،ٹوئٹراورانسٹاگرام پروقت صرف کرنا بچوں کی دماغی صحت کے لئے انتہائی نقصان دہ ہوتا ہے اوراس سے حافظہ بھی متاثر ہوسکتا ہے۔

کینیڈا میں کی گئی ایک تحقیق کے مطابق سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر دن میں 2 گھنٹے سے زائد صرف کرنے سے بچوں کو نفسیاتی مسائل کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے اوران میں خودکشی کا رجحان بھی پیدا ہوسکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ والدین کو چاہئے کہ وہ اپنے بچوں کے معمولات پر نظررکھتے ہوئے انہیں زیادہ دیر تک سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر وقت گزارنے سے روکیں اور انہیں صحت مندانہ سرگرمیوں جیسے کھیل اور ورزش کی جانب راغب کریں اس طرح نہ صرف ان کی صحت پر پڑنے والے مضر اثرات کو روکا جاسکتا ہے بلکہ ان کی تعلیمی کارکردگی میں بھی بہتری آسکتی ہے۔

ماہرین کی جانب سے کیے گئے ایک سروے میں یہ بات سامنے آئی کہ 13 سے 19 سال تک کی عمر کے ایسے بچے جو فیس بک اور ٹوئٹر وغیرہ سے منسلک ہیں ان میں دیگر بچوں کے مقابلوں میں نفسیاتی عارضے میں مبتلا ہونے کے زیادہ مواقع ہوتے ہیں جب کہ ان کی سیکھنے کی صلاحیتوں میں بھی کمی ہوتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ہر چیز کا صحیح اور غلط استعمال کیا جاسکتا ہے تاہم  ضرورت اس بات کی ہے کہ بچوں کی صحیح طریقے سے رہنمائی کی جائے او انہیں اعتدال کے راستے پر گامزن کیا جائے۔


Leave a comment

ممبئی: بلند فشارِخون یا بلڈ پریشر کا مرض ایک خاموش قاتل قرار دیا جاتا ہے جس میں خون کی رگوں پر خون کا دباؤ بڑھتا ہے جس کے نتیجے میں امراضِ قلب سمیت  فالج اور دیگر جان لیوا امراض جنم لیتے ہیں۔

طبی ماہرین ہائی بلڈ پریشر کو قابو کرنے کے لیے بعض گھریلواشیا تجویزکرتے ہیں جو قدرتی طور پر بلڈ پریشر کو قابو میں رکھتی ہیں اور آپ کو خطرناک امراض سے بچاتی ہیں لیکن ان اشیا کے استعمال سے پہلے اپنی معالج سے رجوع ضرور کریں تاکہ آپ کسی نقصان سے بچ سکیں۔

سرخ گوشت بمقابلہ سفید گوشت:

بلڈ پریشر کے مریض سرخ گوشت مثلاً گائے اور بکرے کے گوشت سے پرہیز کرتے ہوئے مرغی اور مچھلی استعمال کریں جنہیں سفید گوشت بھی کہا جاتا ہے جب کہ ایسے افراد مرغی اور مچھلی کے ساتھ سبزی کا زیادہ استعمال رکھیں جو ان کے لیے مفید ہے۔

لہسن:

لہسن میں موجود کئی قدرتی اجزا بلڈ پریشر کو قابو میں رکھتے ہیں اور خون میں کولیسٹرول کی سطح کو بھی کم کرتے ہیں لہٰذا اس کا استعمال بلڈ پریشر کے مریضوں کے لیے فائدہ مند ثابت ہوتا ہے۔

 شہد اور پیاز:

ایک کپ میں پیاز کے رس میں 2 چمچ شہد ملائیں اور اسے روز کا معمول بنائیں اس عمل سے آپ اپنے بلڈ پریشر کو قابو میں رکھ سکتے ہیں۔

کڑھی پتے:

کڑھی پتوں میں کئی بیماریوں کا علاج ہے۔ ایک کپ پانی میں 4 سے 5 کڑھی پتے ابالیں اور اسے پی لیں اس سے بہتر محسوس کریں گے۔

چقندر کا رس:

چقندر کا رس بلڈ پریشر کو قابو میں رکھتا ہے اس لیے سلاد وغیرہ میں بھی چقندر کا استعمال بلڈپریشر کے مریضوں کے لیے انتہائی مفید ہے جب کہ چقندر خون بنانے میں بھی مدرگار ثابت ہوتا ہے۔


Leave a comment

کھٹمنڈو: نیپال کے ایک گاؤں ہوکسے کے قریباً تمام افراد گردہ مافیا دھمکیوں اوردھوکہ دہی کے باعث اپنے گردوں سے محروم ہوچکے ہیں۔

نیپال کے اس گاؤں میں منڈلانے والے اعضا فروش غریب دیہاتیوں کو لبھا کرجنوبی بھارت لے جاتے ہیں جہاں آپریشن کے بعد ان کا ایک گردہ نکال دیا جاتا ہے۔ کہانیاں تراشنے والے گردہ فروش گاؤں کے سادہ لوگوں سے کہتے ہیں کہ انسان کے لیے صرف ایک گردہ کافی ہوتا ہے اور دوسرا گردہ کچھ دنوں بعد دوبارہ اُگ آتا ہے اسی طرح ان جعل سازوں نے ایک ایسی خاتون کو بھی بے وقوف بنایا جس کا گھر نیپال میں آنے والے حالیہ زلزلے میں تباہ ہوچکا تھا، یہ جعل ساز اس خاتون کو 10 سال

نیپال میں ہرسال غیرقانونی طور پر 7 ہزار گردے فروخت کیے جاتے ہیں اور گردہ مافیا کئی مواقع پر لوگوں کو اغوا کرکے ان کا گردہ نکالتے ہیں یا پھر کسی اور آپریشن کی آڑ میں ان کا گردہ ہتھیالیتے ہیں اس کے ساتھ بعض لوگوں کو قتل بھی کردیا جاتا ہے اور وہ گردہ دینے والے کے مقابلے میں 6 سے 8 گنا زائد رقم امیر افراد سے وصول کرتے ہیں۔

گردہ مافیا نے ایک نیپالی باشندے کو نشہ آور دوا پلا کر اس کا گردہ نکال لیا جس کے بعد اسے 3 ماہ بعد صرف 150 ڈالر رقم فراہم کی گئی، نیپال میں گردہ مافیا کی ان وارداتوں کے بعد حکومت نے سکیورٹی فورسز کو اس جرم میں ملوث عناصر کے خلاف کارروائی کی ہدایت کردی ہے جس کے بعد کچھ عناصر کو گرفتار بھی کرلیا گیا ہے۔

سے گردہ فروخت کرنے پر قائل کررہے تھے تاہم اب مجبوری کے باعث خاتون نے اپنا گردہ 2 ہزار ڈالر میں فروخت دیا۔