PHARMACEUTICAL REVIEW

ISSN 2220-5187; We distribute and report the potential information of biological or life sciences – medicine, dentistry, pharmacy, nursing, veterinary, food, livestock, agriculture and public health. We publish the most current news, innovations, interviews and events (conferences, exhibitions, workshops, seminars). The professional bodies, business entrepreneurs, academic institutions and research organizations may contact us to market their events and business. We will help you to promote and advertise your products and services.


Leave a comment

Category-C’ – A Sheer Encroachment in the Pharmacy Profession; Prof. Dr. Syed Nisar Hussain Shah and Farooq Bashir Butt

Punjab Pharmacy Council has allegedly started producing quack pharmacists by opening a ‘category C’ which is sheer encroachment in the pharmacy profession. This is a depraved attempt and does not make any sense in the 21st century. Once these quacks pharmacists come into the field, they may play havoc with the lives and health of the common man. The Pakistan Pharmacist Association has also become a silent spectator and turned awa y from this situation.
Instead of playing a concrete role and getting amendments in the Pharmacy Act 1967 in place, it seems to have become part of this heinous crime of degrading the pharmacy profession.
If registered graduate pharmacists are not available, the practice in other parts of the developed world is that they shut down their pharmacy.
Thousands of pharmacists are passing every year from universities in the public as well as the private sector and there is no shortage of pharmacists in the country. It is a pity that pharmacists getting a five-year rigorous education to qualify for Pharm.D degree are registered with their respective Provincial Pharmacy Council along with matriculate equivalents who appear for assistant pharmacists without any regular training. More than 40 years have passed and no change has been made to the Pharmacy Act 1967. This shows that we do not want to keep abreast with the latest taking place in the profession. The Pharmacy Act 1967 was last amended in 1973. A big issue involved in the healthcare system today is the rational use of drugs which could only be ascertained if a registered graduate pharmacist ensures its authenticity at a pharmacy outlet. Pharmacists find no other option but to leave the country and go where they are given due status and respect. People at the helm of affairs are not ready to differentiate the gravity of the situation. I request the federal government to immediately make amendments in the Pharmacy Act 1967, which have already been passed by all the four provinces, and take action against those responsible for creating this mess by exploiting and misusing the outdated Pharmacy Act 1967 for vested interests.

 

Advertisements


Leave a comment

ہلدی نفسیاتی امراض کے لیے مفید اور زود اثر

 

خرم منصور قاضی  منگل 1 جولائ 2014

ہلدی الزائمر(دما غی بیماری) اور ڈپریشن کے علاج میں بھی نہایت معاون ثابت ہوتی ہے، تحقیق۔ فوٹو : فائل

لندن میں کی گئی ایک تحقیق کے مطابق گوکہ مسائل زندگی کو بامقصد ، دلچسپ اور سرگرم رکھتے ہیں لیکن اگر یہ مسائل ذہنی صحت سے متعلق ہوں تو جینا مشکل بھی کر دیتے ہیں اور انسان جب اپنے مسائل کے سامنے ہار مان لیتا ہے تو اس کا ذہن بیمار ہونے لگتاہے۔

جس کی وجہ سے اس میں کئی قسم کی ذہنی و نفسیاتی بیماریاں پیدا ہونے لگتی ہیں۔ نفسیاتی و ذہنی بیماریوں کے علاج کے لئے مارکیٹ میں بے شمار ادویات موجود ہیں لیکن حال ہی میں ہونے والی ایک نئی تحقیق کے مطابق ڈپریشن کے علاج میں ہلدی روایتی ادویات سے کہیں زیادہ فائدہ مند ہے۔ درد اور زخموں کے علاج وغیرہ کے لئے ہلدی کا استعمال تو قدیم زمانوں سے کیا جا رہا ہے، جس کا ذکر قدیم مذہبی کتب میں بھی ملتا ہے لیکن نئی سائنسی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ ہلدی الزائمر(دما غی بیماری) اور ڈپریشن کے علاج میں بھی نہایت معاون ثابت ہوتی ہے۔

محققین کی تحقیق کے دوران ہلدی کے جادوئی مرکبات سامنے آئے ہیں۔ محققین نے ڈپریشن کے علاج میں ہلدی اور پروزک (نفسیاتی بیماری کے علاج کی دوائی کا نام) کے اثرات جاننے کے لئے 60 مریضوں پر ایک تحقیق کی، جنہیں تین گروپوں میں تقسیم کردیا گیا۔ 6ہفتوں کے کورس میں ایک گروپ کو صرف پروزک (20ایم جی)، دوسرے کو صرف ہلدی کا مرکب اور تیسرے کو پروزک اور ہلدی کا مرکب دونوں دیئے گئے۔

تحقیق کے نتائج میں یہ بات سامنے آئی کہ پروزک اور ہلدی کا مرکب اکٹھا لینے والوں میں 77.8فیصد، صرف پروزک لینے والوں میں 64.7فیصد جبکہ صرف ہلدی کا مرکب استعمال کرنے والوں میں 62.5 فیصد بہتری آئی لیکن ان نتائج کے باوجود محققین ہلدی کو سب سے زیادہ فائدہ مند قرار دیا ہے کیوں ہلدی کے حوالے سے مثبت چیز یہ ہے کہ اس کے استعمال سے پروزک کے برعکس کوئی ضمنی اثرات (سائیڈ ایفیکٹ) رونما نہیں ہوئے۔ ان نتائج کو سامنے رکھتے ہوئے محققین نے ہلدی کو پروزک سے کہیں زیادہ بہتر قرار دیا ہے۔ انڈہ، سبزی، مچھلی کے ساتھ ہلدی کا استعمال انسانی صحت کے لئے بہت مفید ہے کیوں کہ یہ نہ صرف متعدد بیماریوں سے بچاتا ہے بلکہ پہلے سے موجود بیماری کے علاج میں بھی معاونت کرتا ہے، لہذا ہلدی کو روزمرہ کی غذاؤں کا ضرور حصہ بنایا جائے۔


Leave a comment

لہسن: دماغ کے کینسر کے لیے اکسیر

خرم منصور قاضی  منگل 1 جولائ 2014

لہسن نہ صرف دماغ میں کینسر کی پیدائش بلکہ اسے پھیلنے سے روکنے کیلئے بھی مدافعتی آکسیجن پیدا کرتا ہے،تحقیق فوٹو : فائل

واشنگٹن  میں کی گئی تازہ ترین تحقیق کے مطابق لہسن کسی بھی طرح کے مضر اثرات کے بغیر دماغی کینسر کے خاتمہ کیلئے نہایت مفید ہے۔

کینسر جرنل میں شائع ہونے والی نئی تحقیق میں محققین کا کہنا ہے کہ لہسن نہ صرف دماغ میں کینسر کی پیدائش بلکہ اسے پھیلنے سے روکنے کیلئے بھی مدافعتی آکسیجن پیدا کرتا ہے۔ دماغ کے کینسر کے علاج کیلئے عمومی طور پر کیموتھراپی یا ریڈی ایشن کا سہارا لیا جاتا ہے جو بدقسمتی سے دماغ کے خلیوں کو بھی مار دیتی ہے، پھر یہ علاج بھی تقریباً 15ماہ تک چلتا ہے۔ مزید برآں کیموتھراپی کا سہارا لینے والے کینسر کے 90فیصد مریض علاج کے 10سے 15سال بعد فوت ہو جاتے ہیں۔

نئی تحقیق اس حوالے سے شاندار ہے کہ لہسن کے ذریعے کینسر کے علاج میں دماغی خلیے محفوظ رہتے ہیں۔ امریکہ میں کی جانے والی ایک اور تحقیق میں کہا گیا ہے کہ لہسن میں پائے جانے والے اجزاء اینٹی بائیوٹک ادویات سے سو فیصد زیادہ موثر ثابت ہو سکتے ہیں۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ لہسن کے باقاعدہ استعمال سے قوت مدافعت بڑھتی ہے جو کینسر سے بچاؤ میں بے حد معاون ثابت ہوتی ہے۔ لہسن میں موجود سلفر کے اجزا جسم کی قوت مدافعت کو بڑھاتے ہیں جبکہ متعدد وبائی امراض کو روکنے میں بھی معاون ثابت ہوتے ہیں۔ یاد رہے کہ سبزیوں میں لہسن کو (فوائد کے حوالے سے) نمایاں مقام حاصل ہونے کی وجہ سے گزشتہ 20 برسوں کے دوران اس پر کم و بیش 3 ہزارتحقیقات کی جاچکی ہیں۔

غذائی اجناس پر ہونے والی نئی تحقیق کے مطابق بلڈپریشر کی بیماری کے علاج میں لہسن کا استعمال کسی بھی دوائی سے کئی درجے بہتر ہے۔ یہ حیران کن تحقیق گزشتہ روز پاکستان جرنل آف فارماسیوٹیکل سائنسز میں شائع ہوئی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ لہسن کا استعمال بلڈپریشر کے ایسے مریضوںکے لئے بھی نہایت مفید ہے، جنہیں ہائپر ٹینشن (خون کا غیرمعمولی دباؤ) کا مرض بھی لاحق ہو۔ ہائپر ٹینشن ایک ایسا مرض ہے جس کی وجہ سے ترقی پذیر ممالک میں موت کی شرح ایک فیصد ہے۔

ہائپر ٹینشن کو خاموش قاتل بھی کہا جاتا ہے جو ہارٹ اٹیک کا باعث بھی بنتا ہے۔ لہسن دراصل قدیم و روایتی طریقہ علاج میں بھی امراض قلب کے مریضوں کے لئے اکسیر سمجھا جاتا تھا۔ طبی ماہرین نے لہسن کی افادیت جس میں کولیسٹرول یا خون کو گاڑھا کر دینے والے چکنے مادے کو کم کرنے اور بلند فشار خون کے علاج کے طور پر قدرت کے اس تحفے کو کبھی بھی بے اثر نہیں سمجھا۔ طبی ماہرین کے مطابق درحقیقت 12سوایم جی پر مشتمل لہسن کی خوراک بلڈپریشر کم کرنے کے لئے مارکیٹ میں دستیاب معروف دوائی سے کہیں زیادہ بہتر ہے۔ آج جہاں ہائی بلڈ پریشر یا بلند فشار خون کے لئے مختلف ادویات کا استعمال عام ہو گیا ہے، وہاں طبی سائنس کے شعبے میں ریسرچ کرنے والے ترقی یافتہ ممالک میں بھی محققین اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ اس ضمن میں لہسن کا استعمال نہایت مفید ہے۔


Leave a comment

پھل اور سبزیوں کے استعمال سے وزن کم نہیں ہوتا، آزمودہ نسخہ غیر موثر قرار

ویب ڈیسک  منگل 1 جولائ 2014

پھلوں اور سبزیوں میں کئی طرح کے وٹامن اور فائبر موجود ہوتے ہں۔ فوٹو: فائل

نیویارک: مشرق ہو یا مغرب وزن میں کمی کے لئے لوگ بھلوں اور سبزیوں کے استعمال کو ایک مفید اور آزمودہ نسخہ خیال کرتے ہیں لیک ماہرین کی جدید تحقیق نے اسے غلط قرار دے دیا ہے۔ 

بین الاقوامی شہرت رکھنے والی درسگاہ ’یونیورسٹی آف الباما برمنگھم’ سے تعلق رکھنے والے محققین نے پھلوں اور سبزیوں کے استعمال اور اس سے وزن میں کمی کے اثرات کا جائزہ لینے کے لئے ایک ہزار 200 سے زائد افراد کی روز مرہ خوراک کا تجزیہ کیا۔ تجزیے کے نتائج سے معلوم ہوا کہ پھلوں اور سبزیوں کو بطورغذا استعمال کرنے کے باوجود لوگوں کے وزن میں ذرہ برابر بھی کمی نہیں دیکھی گئی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ عوامی صحت کے نکتہ نظر سے لوگوں کو کم صحت مندانہ غذا زیادہ سے زیادہ پھل اور سبزیاں کھانے کا پیغام تو دیا جاسکتا ہے کیونکہ سبزیوں اور پھلوں سے کئی طرح کے وٹامنز اور فائبر ایک ساتھ ہی مل جاتے ہیں، لیکن ان سے ان کے وزن میں کوئی کمی نہیں ہوتی حتی کہ کسی بھی خوراک کے ساتھ پھل اور سبزیاں ملا کر کھانے سے بھی وزن میں کمی کا امکان نہیں ہوتا۔


Leave a comment

عطیہ کئے گئے اعضا کو زیادہ دن تک محفوظ رکھنے کی تکنیک متعارف

ویب ڈیسک  منگل 1 جولائ 2014

یہ ایک زبردست پیش رفت ہے اور اس کی بدولت کئی زندگیوں کو بچایا جا سکتا ہے،امریکی ڈاکٹرز۔ فوٹو فائل

واشنگٹن: عام طور پر عطیہ کیا جانے والا عضو 24 گھنٹے کے دوران دوسرے جسم میں منتقل کرنا لازمی ہے اگر ایسا نہ کیا جائے تو جسم سے نکلے ہوئے اعضاء کے خلیے مرجاتے ہیں اور وہ بےکار ہو جاتا ہے تاہم امریکی تحقیق کاروں نے ایسی تکنیک متعارف کرادی ہے جس کی بدولت ٹرانسپلانٹ کئے جانے والے اعضا کو زیادہ وقت تک محفوظ رکھا جا سکتا ہے۔

سپر کولنگ ، جی ہاں یہ وہ تکنیک جس کی بدولت اعضا کے دم توڑتے خلیوں کی رفتار کو انتہائی سست کرکے اسے مزید 3 دن تک محفوظ رکھا جاسکے گا۔ لندن میں کی جانے والی اس تکنیک کی مدد سے ٹرانسپلانٹ کئےجانے والے عضو کو منفی 6 ڈگری پر ٹھنڈا کردیا جاتا ہے اور اس کے ویسلز سے آکسیجن کو پمپ کیا جاتا ہے جس کے باعث عضو کے خلیے مرتے نہیں یا پھر ان کی مرنے کی رفتار انتہائی سست ہو جاتی یعنی میٹابولک کا عمل سست ہوجاتا ہے۔ اس سلسلے میں چوہے کے جگر کو ٹرانسپلانٹ کرنے کا تجربہ کیا گیا اور 3 روز بعد چوہے کا جگر تبدیل کیا گیا اور یہ تجربہ کامیاب رہا۔

ہاورڈ میڈیکل اسکول کے ڈاکٹر کورکٹ کا کہنا ہے کہ اس تکنیک کی بدولت دنیا میں کسی بھی مقام سے عطیہ کئے گئے عضو کو ٹرانسپلانٹ کیا جا سکے گا۔ اور اس سے بہتر میچنگ عضو کو بآسانی حاصل کیا جسکے گا۔ اس سے قبل میچنگ عضو کے نہ ملنے سے عطیہ کئے گئے بہت سے اعضا ضائع ہو جاتے تھے تاہم اب ان اعضا کو بھی سپر کولنگ تکنیک کی وجہ سے کئی روز تک محفوظ رکھا جا سکتا ہے۔

امریکی ڈاکٹر روزمیری ہن زائکر کا کہنا ہے کہ اس تکنیک سے نہ صرف ہم اس قابل ہوگئے ہیں  کہ عطیہ کیئے گئے عضو کو زیادہ دنوں تک محفوظ رکھ سکیں بلکہ اس سے مریض کو بہتر میچنگ اعضا بھی میسرآسکیں۔ یہ ایک زبردست پیش رفت ہے اور اس کی بدولت کئی زندگیوں کو بچایا جا سکتا ہے۔


Leave a comment

رمضان المبارک میں صحت مند رہنے کے آسان طریقے

نیٹ نیوز  جمعـء 4 جولائ 2014

روزہ کھولنے کے لیے کھجور اور دہی، پانی اور تازہ پھلوں کا رس استعمال کرنا چاہیے،ماہرین،فوٹو:فائل

واشنگٹن: ماہرین کے مطابق روزے داروں کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس موسم کو مدِ نظر رکھتے ہوئے رمضان کے مہینے کی تیاری کریںاور مندرجہ ذیل احتیاطوں کے ساتھ اپنی صحت کا بھی خیال رکھیں۔

(افطار پر اعتدال سے کھانا) شام میں افطار پر اعتدال سے خوراک لینی چاہیے۔ کوشش کرنی چاہیے کہ چینی اور چربی سے بنی چیزوں سے پرہیز کیا جائے، کیونکہ یہ کھانے نہ صرف انسانی میٹابولیزم پر منفی اثرات ڈالتے ہیں، بلکہ اس سے سر میں درد ہو سکتا ہے اور انسان تھکاوٹ محسوس کرتا ہے۔ ماہرین کہتے ہیں کہ روزہ کھولنے کے لیے کھجور اور دہی، پانی اور تازہ پھلوں کا رس استعمال کرنا چاہیے۔ اس کے بعد دس منٹ تک انتظار کرنے کے بعد ایسی خوراک لینی چاہیے جس میں معدنیات زیادہ ہوں۔

(سحری ضروری ہے)بعض اوقات ہم کاہلی کا شکار ہوتے ہیں اور نیند کے باعث سحری پر نہیں اٹھ پاتے۔ طبی ماہرین کے نزدیک یہ رویہ غلط ہے۔ ڈاکٹر کہتے ہیں کہ سحری ضرور کرنی چاہیے اور سحری میں ایسی غذا استعمال کرنی چاہیے جس میں کاربوہائیڈریٹس زیادہ ہوں جیسا کہ روٹی اور دالیں۔

(مکمل نیند لیں)مضان عبادات کا مہینہ ہے۔ بعض اوقات رمضان میں نیند کے دورانیے میں کمی آ جاتی ہے جو کہ غلط رجحان ہے اور انسان کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ سب کو کوشش کرنی چاہیے کہ دن کے 24 گھنٹے میں سے کم از کم 8 گھنٹے سویا جائے۔

(ورزش کو نہ بھولیں)رمضان کے مہینے کا قطعاً یہ مقصد نہیں کہ انسان اپنی زندگی میں سے ورزش کو بالکل جگہ نہ دے۔ ماہرین کہتے ہیں کہ رمضان میں ہلکی ورزش کرنی چاہیے مگر ورزش کو اپنا معمول ضرور بنانا چاہیے۔ رمضان میں پیدل چلنے کو اپنا معمول بنائیں۔


Leave a comment

برطانیہ میں جبری شادیاں کرانے والوں کو جیل کی ہوا کھانا پڑے گی

ویب ڈیسک  بدھ 18 جون 2014

برطانیہ میں مقیم پاکستانی ،بنگلہ دیشی اور بھارتی اپنے بچوں کی آبائی ممالک میں لاکر ان کی مرضی کے خلاف شادیاں کردیتے ہیں۔ فوٹو: فائل

لندن: برطانیہ میں نوجوان لڑکیوں اور لڑکوں کی جبری شادیوں کو روکنے کے لئے نیا قانو نافذ کردیا گیا ہے جس کے تحت اس اقدام میں ملوث افراد کو 7 سال تک جیل کی ہوا کھانا پڑ سکتی ہے۔

برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق برطانیہ میں نافذ قانون کے تحت وہ برطانوی شہری جو اپنے بچوں کی جبری شادیوں میں ملوث پائے گئے انہیں 7 سال تک سزا دی جاسکے گی، اس قانون کا اطلاق نہ صرف برطانیہ بلکہ بیرون ملک جبری شادی کرنے والے برطانوی شہریوں پر بھی کیا جاسکے گا۔

برطانوی وزیر داخلہ تھریسا مے کا کہنا ہے کہ ہر شخص کو بلاتفریق اپنے جیون ساتھی کے انتخاب کا حق ہے، جبری شادی ہر متاثرہ شخص کے لئے کسی بڑے المیے سے کم نہیں لیکن برطانیہ اس فعل کی روک تھام کے لئے سب سے آگے ہے۔ اس قانون سے برطانوی شہریوں کو اپنے جیون ساتھی کے انتخاب کے لئے تحفظ اور آزادی حاصل ہوگی۔

واضح رہے کہ برطانوی شہریوں میں پاکستان ،بنگلا دیشی اور بھارتی نژاد افراد اپنے بچوں کی آبائی ممالک میں آکر ان کی مرضی کے خلاف شادیاں کردیتے ہیں۔