PHARMACEUTICAL REVIEW

ISSN 2220-5187; We distribute and report the potential information of biological or life sciences – medicine, dentistry, pharmacy, nursing, veterinary, food, livestock, agriculture and public health. We publish the most current news, innovations, interviews and events (conferences, exhibitions, workshops, seminars). The professional bodies, business entrepreneurs, academic institutions and research organizations may contact us to market their events and business. We will help you to promote and advertise your products and services.


Leave a comment

دکھی انسانیت کی مسیحائی ایک مقدس کام ہے۔ اسی لیے دنیا بھر میں ڈاکٹروں کو عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے، مگر امریکا میں ڈاکٹری ذلّت آمیز پیشہ بن گیا ہے۔

سالانہ 300 مسیحا خود کشی کرنے لگے۔ فوٹو : فائل

آپ یہ جان کر حیران ہوں گے کہ مریضوں کو جینے کا حوصلہ دینے والے ڈاکٹر اپنے ہی ہاتھوں اپنی زندگیوں کا خاتمہ کررہے ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق امریکا میں سالانہ 300 ڈاکٹر ڈپریشن میں مبتلا ہوکر خود کشی کرتے ہیں۔ اپنے مستقبل سے مایوس امریکی ڈاکٹر اس پیشے کو خیرباد کہہ کر دوسرے شعبوں کا انتخاب کررہے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ امریکا میں ’’ فزیشن ایم بی اے پروگرام ‘‘ مقبول ہورہے ہیں۔ یہ پروگرام مکمل کرنے والے ڈاکٹر انتظامی شعبوں میں روزگار حاصل کرسکتے ہیں۔ امریکا میں ڈاکٹروں کو متبادل روزگار کے حصول میں معاونت فراہم کرنے والی متعدد ویب سائٹ کام کررہی ہیں اور ان کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ ہر دس میں سے نو ڈاکٹر اس پیشے کو اپنانے کی خواہش رکھنے والے نوجوانوں کی حوصلہ شکنی کرتے ہیں۔ اس تمام صورت حال کی ذمہ داری ہیلتھ کیئر سسٹم کی خرابیوں پر عائد ہوتی ہے۔

امریکا میں صحت کا شعبہ عرصۂ دراز سے ایک بحرانی کیفیت میں مبتلا ہے۔ انتخابی مہم کے دوران صدر باراک اوباما نے عوام سے شعبۂ صحت میں اصلاحات کرنے کا وعدہ کیا تھا جو اب تک وفا نہ ہوسکا۔ اہم بات یہ ہے کہ ہیلتھ کیئر کے ناقص نظام کے اثرات سے اسپیشلسٹ ڈاکٹر اور سرجن محفوظ ہیں۔ امریکا میں ریڈیالوجسٹ، اوپتھلمولوجسٹ اور پلاسٹک سرجنوں پر ڈالروں کی بارش ہورہی ہے تو دوسری جانب ایم بی بی ایس کی ڈگری رکھنے والے عام ڈاکٹروں کے لیے گزارہ کرنا بھی مشکل ہوگیا ہے۔ امریکا میں ان کے لیے بنیادی یا پرائمری ڈاکٹر کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے۔

بدقسمتی سے ڈاکٹروں بالخصوص ان ڈاکٹروں کے لیے صورت حال بدتر ہوتی جارہی ہے جو حکومت سے ہیلتھ انشورنس وصول کرتے ہیں۔ میری لینڈ یونی ورسٹی میڈیکل سینٹر کے سابق چیف ایگزیکٹیو آفیسر اور جنرل فزیشن ڈاکٹر اسٹیفن شمف کے مطابق، جو شعبۂ صحت کی خامیوں پر کتاب بھی لکھ رہے ہیں، ڈاکٹر کو ہر مریض کے انشورنس فارم کے ساتھ 58 ڈالر فیس کی مد میں جمع کروانے پڑتے ہیں۔ وہ مریض سے اتنی معائنہ فیس وصول نہیں کرتا جتنی کہ انشورنس حاصل کرنے کے لیے جمع کروانی پڑ جاتی ہے۔

چنانچہ ڈاکٹروں کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ مریض دیکھیں، بہ صورت دیگر انھیں کھانے کے لالے پڑجاتے ہیں۔ زیادہ سے زیادہ مریض دیکھنے کی مجبوری کی وجہ سے وہ ہر مریض کو اوسطاً بارہ منٹ سے زیادہ وقت نہیں دے پاتے جس سے مریضوں کا بھی نقصان ہوتا ہے۔

اس صورت حال سے ڈاکٹر اور مریض دونوں ہی خوش نہیں ہیں۔ بدقسمتی یہ ہے کہ Affordable Care Act کے ذریعے ہر کسی کو ہیلتھ انشورنس خریدنے کا پابند کردیا گیا ہے۔ دوسری جانب ڈاکٹروں کو انشورنس کلیم حاصل کرنے کے پیچیدہ طریقۂ کار سے آگاہ بھی نہیں کیا جاتا۔ انشورنس کے سلسلے میں پیش آنے والی مشکلات نے کتنے ہی ڈاکٹروں کو اپنے کلینک بند کرکے ملازمت اختیار کرنے پر مجبور کردیا ہے۔ اسپتالوں میں مریضوں کے رش کی وجہ سے ڈاکٹروں کے لیے ہر مریض کو مناسب وقت دینا ممکن نہیں۔

دوسری جانب ان کی تنخواہوں کو مریضوں کی تسلی و اطمینان سے منسلک کردیا گیا ہے جس کی وجہ سے صورت حال مزید خراب ہوگئی ہے۔ اگر مریض کسی ڈاکٹر سے مطمئن نہیں ہوگا تو اس کی ’ میڈی کیئر پیمنٹ ‘ میں کٹوتی کردی جائے گی۔ لہٰذا اسے مریض کو مطمئن بھی کرنا ہے اور مقررہ وقت میں زیادہ سے زیادہ مریض بھی دیکھنے ہیں۔ ایک طرح سے ڈاکٹر کو مریض کے ہاتھوں یرغمال بنادیا گیا ہے جس کی کسی بات سے وہ انکار نہیں کرسکتا۔

علاوہ ازیں ڈاکٹر کو روزانہ بلامبالغہ انشورنس اور دیگر قسم کے سیکڑوں فارمز پر دستخط کرنے پڑتے ہیں۔ دوسری جانب کمپیوٹر اسکرین پر بھی تواتر سے مختلف قسم کی ای میلز موصول ہوتی رہتی ہیں جن کا انھیں فوری جواب دینا ہوتا ہے۔ اور مختلف قسم کے فارمز بھی نمودار ہوتے رہتے ہیں جنھیں فوری پُر کرنا ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ انشورنس کمپنیوں کے ساتھ تمام معاملات نمٹانے کی ذمہ داری بھی ڈاکٹر ہی کی ہوتی ہے۔ بیشتر اوقات انھیں یہ تمام امور اپنے اوقات کار کے بعد بھی انجام دینے پڑتے ہیں۔

ڈاکٹروں کو درپیش مشکلات کی سنگینی کو بڑھانے میں ذرائع ابلاغ نے بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔ اخبارات اور ٹیلی ویژن چینلز پر انھیں ایسے کاموں کے لیے بھی ذمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے جن پر ان کا کوئی اختیار نہیں ہوتا۔ اسپتال میں اگر فرنیچر ٹوٹا ہوا ہے تو اس کا ذمہ دار ڈاکٹر ہے، اگر مریض وہیل چیئر سے مطمئن نہیں ہے تو اس کی ذمہ داری بھی انتظامیہ کے بجائے ڈاکٹروں کے کھاتے میں ڈال دی جاتی ہے۔ اگر لیب ٹیسٹ منہگے ہیں تو اس کے ذمہ دار بھی ڈاکٹر ہی ہیں۔

ان کے علاوہ بھی ڈاکٹروں کو کئی طرح کے مسائل کا سامنا ہے جنھیں حل کرنے کے لیے نہ تو حکومت اور نہ ہی ’’ امریکن بورڈ آف انٹرنل میڈیسن‘‘ تیار  ہے۔ اس تمام صورت حال میں ڈاکٹروں کا ڈپریشن میں مبتلا فطری امر ہے، اور اگر سالانہ 300 ڈاکٹر خودکشی کررہے ہیں تو اس پر حیرت نہیں ہونی چاہیے۔


Leave a comment

سنگاپور: موبائل فون نے جہاں زندگی کا رنگ ڈھنگ ،طرز گفتگو اور ملاقات ہی بدل ڈالا ہے وہیں نوجوان نسل کو ذہنی اور نفسیاتی بیماریوں میں بھی مبتلا کردیا ہے جس کے باعث وہ اپنے تعلیمی عمل سے دور ہوتے جارہے ہیں اورایک تازہ ترین تحقیقاتی مطالعہ میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ میڈیکل اتھارٹیز کو چاہئے کہ وہ انٹرنیٹ اور دیگر ڈیجیٹل آلات کے نشے کو دماغی عدم توازن قرار دیں۔

اکثر نوجوانوں کو جب اسمارٹ فون سے الگ کردیا جائے تو وہ شدید ذہنی پریشانی اور کرب پر کنٹرول نہیں کر پاتے،ماہرین نفسیات۔ فوٹو: فائل

سنگا پور سے شائع ہونے والی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سنگاپور کے لوگ ایک سیشن میں 38 منٹ تک فیس بک کا استعمال کرتے ہیں۔ ماہر نفسیات ایدریان وینگ نے واضح کیا ہے کہ ڈیجیٹل کے نشے کو نفسیاتی عدم توازن قرار دیا جانا چاہئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ذہنی دباؤ اور پریشانی جیسی بیماریوں کے ساتھ کئی مریض ان کے پاس آتے ہیں لیکن ان کی ان پریشانیوں کا اصل سبب مسلسل آن لائن اور سوشل میڈیا کے روابط ہیں۔

ماہرین نفسیات کا کہنا ہے کہ کچھ عرصہ پہلے تک لوگ آن لائن گیم کے نشے کے عادی تھے تاہم اب سوشل میڈیا اور ویڈیو ڈاؤن لوڈنگ اس سے بڑا نشہ بن گئے ہیں۔ ماہرین کے مطابق مسلسل میسیجنگ کے باعث نوجوان اکثر ٹیکسٹ نیک یا آئی نیک کی تکلیف کا شکار رہتے ہیں۔

ماہرین نفسیات کے مطابق اکثر نوجوان جب لائن میں کھڑے ہوں یا سڑک پار کر رہے ہوں تو موبائل فون پر ایس ایم ایس کرنے میں مصروف رہتے ہیں جو گردن میں تکلیف کا باعث بنتا ہے، اکثر نوجوانوں کو جب اسمارٹ فون سے الگ کردیا جائے تو وہ شدید ذہنی پریشانی اور کرب پر کنٹرول نہیں کر پاتے۔


Leave a comment

آج کل روس کے ماہر سائنس داں نیند کی ایک ایسی پراسرار بیماری کے اسباب معلوم کرنے کی جدوجہد میں مصروف ہیں

پراسرار نیند کی بیماری سب سے پہلے مئی 2013 میں منظر عام پر آئی فوٹو: فائل

جس سے متاثر ہونے والے افراد ایک آدھ گھنٹے یا ایک آدھ دن نہیں بلکہ پورے پورے ہفتے مسلسل سوتے رہتے ہیں۔ یہ واقعات سوویت یونین دور کے ایک بھوتوں والے قصبے میں مقیم افراد کے ساتھ پیش آرہے ہیں۔ یہ قصبہ پہلے ہی غیرآباد ہوچکا ہے، یہاں گنتی کے افراد ہی رہائش پذیر ہیں جنہیں اپنی زندگی کی بقا کے لیے بڑی محنت اور جدوجہد کرنی پڑتی ہے۔ اس پر طرہ یہ کہ یہ لوگ اس پراسرار نیند میں مبتلا ہوکر ہر وقت سوتے رہتے ہیں تو روزی روٹی کب اور کیسے کمائیں گے؟

بالکل یہی کیفیت قزاقستان کے قریب واقع ایک گائوں کی بھی جہاں اب گنتی کے لوگ ہی رہتے ہیں۔ روس کے علاقےKrasnogorsk اور قزاقستان کے علاقے کالاچی کے درجنوں لوگ بھی اس پراسرار نیند کی بیماری میں مبتلا ہوگئے ہیں جو انہیں پورا ہفتہ ہی سلائے رکھتی ہے۔ اگر یہ لوگ جاگتے بھی ہیں تو ہر وقت اونگھتے رہتے ہیں۔ ان لوگوں کی نیند کی یہ حالت ہوگئی ہے کہ اس بیماری میں مبتلا ایک مقامی بوڑھے کو تو مُردہ سمجھ کر زندہ دفن کردیا گیا تھا، مگر جب وہ زندہ نکلا تو پھر یہاں بے چینی پھیل گئی اور ماہرین نے اس وبائی مرض کے بارے میں تحقیق شروع کی تب یہ انکشاف ہوا کہ یہاں کے لوگ مسلسل سوتے رہتے ہیں۔ دوران تحقیق ماہرین نے یہ بھی پتا چلایا کہ یہ بیماری یورینیم کی ایک ایسی سرنگ کے قریب واقع علاقوں میں پھیل رہی ہے جو اب استعمال میں نہیں رہی ہے۔

پراسرار نیند کی یہ بیماری پہلے  اچانک مئی 2013میں منظر عام پر آئی جس کے بعد اس نے 2014کے نئے سال میں اپنا جلوہ دکھایا اور پھر مئی 2014 میں اس حوالے سے کئی کیسز سامنے آئے۔ یہاں کے بعض افراد خاص طور سے بوڑھے افراد تو ہر وقت اپنا بیگ تیار رکھتے ہیں کہ کہیں انہیں فوری طور پر اسپتال نہ لے جانا پڑے۔ عام لوگوں کا یہ خیال ہے کہ نیند کی اس پراسرار بیماری کا سبب قریب ہی واقع یورینیم کی وہ کان ہے جو اب استعمال میں نہیں رہی ہے۔ لیکن جب ماہرین نے اس حوالے سے تحقیق کی تو انہیں ایسا کوئی ثبوت نہیں مل سکا جو یورینیم کی کان اور نیند کی بیماری کے درمیان کوئی تعلق قائم کرسکے۔

پراسرار نیند کے مریضوں پر لگ بھگ 7,000تجربات کیے جاچکے ہیں۔ اس دوران ہر طرح کے ٹیسٹ کیے گئے جن میں مقامی وڈکا شراب کا تجزیہ اور تاب کاری کا ٹیسٹ بھی شامل ہے۔ ساتھ ہی علاقے کی مٹی، پانی اور ہوا کو بھی چیک کیا گیا اور متاثرہ افراد کا خون، بال اور ناخن بھی ٹیسٹ ہوئے۔ لیکن ابھی تک کوئی ایسا نتیجہ سامنے نہیں آیا جو اس بیماری کی وجوہ پر روشنی ڈال سکے۔

بچے اس بیماری سے زیادہ متاثر ہوئے۔ انہیں خوف ناک خواب دکھائی دیتے ہیں، وہ واہموں اور فریب نظر کا شکار بھی رہتے ہیں جس کی وجہ سے ان میں کمزوری بہت بڑھ گئی ہے۔ وہ ہر وقت غنودگی کی کیفیت میں دکھائی دیتے ہیں، یہاں تک کہ اس مرض میں مبتلا بچوں کی یادداشت بھی متاثر ہوگئی ہے۔ دوسری جانب بالغوں کی کیفیت اتنی خراب ہوگئی ہے کہ ان کے سامنے مکمل اندھیرا چھاجاتا ہے۔

کالاچی سے تعلق رکھنے والی پچاس سالہ خاتون Marina Felk نے اخباری نمائندوں کو بتایا:’’میں حسب معمول علی الصبح گایوں کا دودھ دوہ رہی تھی کہ یکایک میرے سامنے اندھیرا چھا گیا اور سب کچھ غائب ہوگیا، ہوش آیا تو میں اسپتال کے ایک وارڈ میں تھی، مجھے دیکھ کر نرسوں نے مسکراتے ہوئے کہا:’’خوش آمدید سلیپنگ پرنسز، آخرکار تم بیدار ہوگئیں!‘‘

مجھے کچھ بھی یاد نہیں تھا، جب کہ مجھے بتایا گیا کہ میں پورے دو دن اور دو راتیں سوتی رہی تھی۔ میرے وارڈ میں موجود ایک نرس نے مجھے بتایا کہ جب کبھی اس نے مجھے جگانے کی کوشش کی تو میں مسلسل یہی کہتی رہی:’’مجھے اپنی گایوں کا دودھ دوہنا ہے۔‘‘

تیس سالہ Alexey Gom نیند کی اس پراسرار بیماری کا اس وقت شکار ہوا جب وہ اپنے رشتے داروں سے ملنے کالاچی گیا تھا۔

اس نے کہا:’’میں اپنی بیوی کے ساتھ اپنی ساس کو دیکھنے اور ان کی مزاج پرسی کرنے گیا تھا۔ میں نے اپنا لیپ ٹاپ آن کیا اور اس کے صفحات کھولنے شروع کیے، کیوں کہ مجھے اپنا کام جلدی نمٹانا تھا۔ بس اسی وقت مجھ پر اس بیماری کا حملہ ہوگیا۔ مجھے ایسا لگا جیسے کسی نے میرے اندر کا بٹن بند کردیا ہے۔ میری آنکھ اسپتال میں کھلی۔ میری بیوی اور میری ساس میرے بستر کے پاس کھڑی تھیں۔ ڈاکٹروں نے میرے کئی ٹیسٹ لیے اور بتایا کہ میرے ساتھ کوئی گڑبڑ نہیں ہے، میں بالکل ٹھیک ہوں۔ میں تیس گھنٹے سے زیادہ عرصے تک سوتا رہا تھا۔ مگر اس کا سبب کوئی ڈاکٹر معلوم نہ کرسکا۔‘‘

سوویت دور میں Krasnogorsk یورینیم کی خفیہ سرنگ والا قصبہ تھا، مگر یہ سرنگ عرصہ ہوا بند ہوچکی ہے۔ اس سرنگ کو اور اس میں ہونے والے کام کو براہ راست ماسکو سے کنٹرول کیا جاتا تھا۔ یہ قصبہ کسی زمانے میں 6,500  افراد کا گھر تھا، اب وہاں بہ مشکل 130 افراد بستے ہیں جنہیں اپنا پیٹ بھرنے کے لیے بڑی جدوجہد کرنی پڑتی ہے۔

لوکل کمیونٹی کونسل کے سربراہ الیگزینڈر ریٹس نے بتایا:’’ہماری دکانوں پر آپ کو سب کچھ مل جائے گا: گوشت، کنڈینسڈ ملک، یوگوسلاویہ کے بنے ہوئے جوتے، ایک کان کن یہاں ہر سال تین نئی کاریں خرید سکتا ہے۔ ہمارے ہاں بچوں کی دو نرسریاں بھی ہیں اور دونوں میں سوئمنگ پول ہیں۔‘‘

کچھ مقامی افراد کا یہ بھی کہنا ہے کہ دنیا کے درجۂ حرارت کے اچانک بڑھنے کی وجہ سے یہ مسئلہ پیدا ہوا ہے، لیکن اس کا بھی کوئی ثبوت نہیں مل سکا۔

کچھ سائنس دانوں کا یہ خیال ہے کہ یہاں کی کان سے یورینیم گیس بھاپ بن کر اڑتی ہے، جب کہ دوسروں کا دعویٰ ہے کہ یہ گیس مذکورہ بالا یورینیم کی کان سے رس رس کر مقامی دریائوں کے پانی میں شامل ہوچکی ہے جس کی وجہ سے نیند کی یہ پراسرار بیماری پیدا ہوئی ہے۔

یہ بیماری امریکا میں پھیلی ‘Bin Laden itch’ نامی بیماری سے ملتی جلتی ہے جس میں متاثرہ افراد کی جلد پر سرخ دھبے پڑگئے تھے۔ مقامی افراد اس اندیشے کا اظہار کررہے ہیں کہ کہیں یہ بیماری بھی اسی طرح کی بیماری نہ ہو۔ اگر ایسا ہوا تو بڑا مسئلہ پیدا ہوسکتا ہے۔

اس خطے کے ایک ماہر ڈاکٹر کا یہ بھی کہنا ہے:’’جب مریض نیند سے جاگتا ہے تو اسے کچھ یاد نہیں ہوتا۔ یہ کہانی ہر بار ایک ہی ہوتی ہے۔ اس میں متاثرہ فرد کمزور ہوجاتا ہے، وہ سست روی کے ساتھ ری ایکشن ظاہر کرتا ہے اور پھر گہری نیند سوجاتا ہے۔ افسوس کہ ابھی تک ہم نہ تو اس بیماری کی نوعیت جان سکے اور نہ اس کے اسباب کا پتا چلاسکے ہیں۔ ہم نے انفیکشنز کو نظر انداز کرتے ہوئے خون کو بھی چیک کیا اور ریڑھ کی ہڈی کے پانی کو بھی، مگر یہ سب ٹھیک نکلے۔ دوسرے پہلوئوں پر بھی غور کیا گیا، مگر سب کچھ ٹھیک ہے البتہ اس بیماری کے اسباب معلوم نہ ہوسکے۔ یہ لوگ پورے ہفتے سوتے ہیں، کیوں؟ جیسے ہی اس کا سبب معلوم ہوگا، ہم اس سے بچائو کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کریں گے۔‘‘


Leave a comment

اسٹاک ہوم: عام طور پر انسانی دماغ میں خون کے جم جانے یا کسی وین کے پھٹ جانے کا فوری طور پر علم نہ ہونے سے بیماری کا علاج ممکن نہیں رہتا تاہم اب سائنسدانوں نے تیار کر لیا ہے ایسا مائیکروویو ہیلمٹ جو فوری بتا سکے گا کہ مریض کس قسم کے اسٹروک کا شکار ہوگیا ہے۔

مائیکرو ویو ہیلمٹ کی بدولت فوری پتا لگانا ممکن ہوگیا ہے کہ مریض کس قسم کے اسٹروک کا شکا ر ہوا۔ بی بی سسی فوٹو

سوئیڈن کے سائنسدانوں نے کئی سال کی کاوشوں کے بعد اس ہیلمٹ کو تیار کیا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ ہیلمٹ سے نکلنی والی مائیکرو ویوز دماغ سے ٹکرا کر واپس آتی ہیں اور فوری طور پر پتہ چل جاتا ہے کہ دماغ کی کوئی رگ پھٹ گئی ہے یا کہں کلوٹنگ ہوئی ہے۔ سائنسدانوں نے اس ہیلمٹ کو ایمبولینس عملے کو دے کر 45 مریضوں پر تجربات کئے جس کے نتائج انتہائی کامیاب رہے اور ایمبولینس کے دوران ہی پتہ چل گیا کہ مریض کس قسم کے اسٹروک کا شکار ہوا ہے۔

ڈاکٹرز کا کہنا ہے جب کسی فرد کو اسٹروک ہو جاتا ہے تو فوری طور پر برین ہیمرج سے بچنے کے اقدامات کیئے جاتے ہیں تاہم اگر مریض کو لانے میں 4 گھنٹے سے زائد گزر جائیں تو دماغ کے ٹشوز مرجاتے ہیں اور دماغ کا بچنا مشکل ہو جاتا ہے۔

اسٹروک کا فوری پتہ کمپیوٹرائزڈ ٹوموگرافی سٹی اسکین  سے لگایا جا سکتا ہے تاہم اس کے لیے مریض اگر ایمرجنسی میں بھی ہے تب بھی اس کا انتظام کرنے میں وقت لگ سکتا ہے اور وقت کا کھونا دماغ کے کھونے کے برابر ہوتا ہے یعنی وقت گذرنے کے ساتھ ہی ریکوری بھی ممکن  نہیں رہتی،اسی وقت کو بچانے کے لیے سوئیڈن میں چیلمر یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی اور ساہلگرینسکا اکیڈمی کے سائنسدان نے مائیکروویو ہیلمٹ تیار کیا تاکہ اسٹروک کے مرض کا فوری پتہ لگا کر دماغ کو ضائع ہونے سے بچایا جاسکے۔

ہیلمٹ کی ایک اہم خصوصیت یہ بھی ہے کہ یہ اس بات کو بھی واضح کرتا ہے کہ اسٹروک کا باعث دماغ میں خون کا جمنا ہے یا پھر برین ہیمرج،سرجنز کا کہنا ہے کہ اس ہیلمٹ کی بدولت اسٹروک کے مریضوں کا فوری اور تیزی سے علاج ممکن ہوجائے گا جس سے دماغ کو بڑے نقصان سے بچایا جا سکے گا۔


Leave a comment

کراچی: ماہرین طب نے کہاہے کہ روزے رکھنے سے انسان مختلف بیماریوں سے محفوظ رہتا ہے اور صحت کے مسائل میں نمایاں کمی واقع ہوتی ہے۔

 

بین الاقوامی رپورٹ کے مطابق پاکستان دنیاکے ان ملکوں میں سرفہرست ہے جہاں صحت کے مسائل کوزیادہ اہمیت نہیں دی جاتی، کم کھانے سے اچھی صحت برقرار رہتی ہے جبکہ عام دنوں میں غیر ضروری چیزیں کھانے سے جسم میں چربی بننے کا عمل شروع ہوجاتاہے،روزے رکھنے سے انسان کامعدہ معمول سے کم کام کرتا ہے اور وزن میں بھی نمایاں کمی واقع ہوتی ہے رمضان المبارک میں سحر وافطار کے وقت اعتدال سے کھاناکھائیں ، دل اور شوگر کے مریضوں کوتلی ہوئی چیزیں کھانے سے پرہیز کرنا چاہیے ۔

شوگرکے مریض سحرکے اوقات میں معالجین کے مطابق دوائیں استعمال کرکے روزہ رکھ سکتے ہیں تاہم روزے کے دوران ان مریضوں کواپنی دوائیں سحراورافطارکے فوری بعدلینا چاہئیں ،شوگرکامریض اپنے معالج کے مشورے اورسحر وافطار میں شوگرچیک کرکے روزے رکھ سکتا ہے،شوگرکے وہ مریض جوکم رسک گروپ میں شامل ہیں وہ احتیاط اوراپنے معالج کے مشورے ورہنمائی سے روزے رکھ سکتے ہیں۔


Leave a comment

FDA panel fails to back AZ ovarian cancer drug olaparib

AstraZeneca has suffered a setback with advisors to the US Food and Drug Administration recommending against accelerated approval of olaparib for ovarian cancer.

The agency’s Oncologic Drugs Advisory Committee has voted 11 to 2 that current evidence does not support early approval for use of olaparib as a maintenance treatment for platinum-sensitive relapsed ovarian cancer in women who have the germline BRCA mutation, and who are in complete or partial response to platinum-based chemotherapy. The vote comes after FDA staffers expressed concern about a subgroup retrospective analysis of Phase II data on the poly ADP-ribose polymerase (PARP) inhibitor which revealed a 7.1 month median improvement in progression-free survival.

AstraZeneca decided, in December 2011, not to progress olaparib into Phase III, but reversed that decision on the basis of results for the aforementioned subgroup. It received priority review status in April from the FDA but the latter’s staffers have questioned whether the reanalysis skewed the results.

The panel also mentioned safety issues such as bone marrow suppression, fatigue, nausea and abdominal pain and cases of myelodysplastic syndrome and acute myeloid leukaemia in study participants that had a small risk of being linked to olaparib.

Briggs Morrison, AstraZeneca’s chief medical officer, said that patients “have few options available to treat this disease” and “we are disappointed with [the] recommendation”. He added that “we strongly believe that olaparib has the potential to provide patients…and their doctors with a much-needed treatment option”.

However this is not the end of the road for olaparib as Dr Morrison said the firm is continuing with its Phase III clinical programme to evaluate the benefit of the drug for this patient population. “We aim to have completed this study by the end of 2015,” he added.

Nevertheless, the decision is indeed disappointing given that AstraZeneca, when fending off the advances of Pfizer earlier this year, had predicted peak sales potential of olaparib at $2 billion.

Sources

 


Leave a comment

Use of Avastin for hard-to-treat ovarian cancer

Advisors to the European Medicines Agency have backed Roche’s blockbuster Avastin for the most difficult to treat form of ovarian cancer.

The EMA’s Committee for Medicinal Products for Human Use (CHMP) has recommended that the European Commission approve the use of Avastin (bevacizumab) in combination with chemotherapy as a treatment for women with ovarian cancer that is resistant to platinum-containing chemotherapy. The positive opinion is based on a Phase III study showing that the addition of Avastin to chemotherapy reduced the risk of disease worsening or death by 62%.

The big-selling drug is already approved in Europe for ovarian cancer, among many other cancers, such as breast, colorectal, non-small cell lung and kidney. Of the 230,000 women diagnosed worldwide each year many will have advanced ovarian cancer that will return after initial treatment, Roche noted, and chief medical officer Sandra Horning noted that women with platinum-resistant ovarian cancer “have limited medicines available for their difficult disease”.

She added that getting the label expansion “would be an important step in helping these women live longer without their disease progressing